30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طرف سے یکساں قائم ہوتا ہے،جس طرح مرضعہ کا بیٹا رضیع کابھائی ہوا،واجب کہ یوں ہی رضیع پسر مرضعہ کا بھائی ہو یہ محال ہے کہ زید تو عمرو کا بھائی ہو اور عمرو زید کابھائی نہ ہو،اور جب رضیع اولادمرضعہ کایقینا اجماعًا بھائی ہے جس سے انکار کسی ذی عقل بلکہ فہیم بچہ کو بھی متصور نہیں۔اورجملہ ائمہ ونصوص مذہب صریح قطعی تصریحیں فرمارہے ہیں کہ رضاعی بھائی کی بیٹی حرام ہے تو رضیع کی اولاد مرضعہ کی اولاد کے لیے کیونکر حلال ہوسکتی ہے،یہ یقینا نصوص قطعیہ واجماع امت کے خلاف ہے،ائمہ نے صاف ارشاد فرمایا ہے کہ رضاعی بھائی کی بیٹی حرام ہے اور رضیع اور پسر مرضعہ دونوں یقینا آپس میں رضاعی بھائی ہیں۔توان میں ہر ایك کی بیٹی دوسرے پر حرام قطعی ہے،کیا کوئی عاقل یہ بھی گمان کرسکتا ہے کہ ایك بھائی کی بیٹی دوسرے پر حرام ہو اور اس دوسرے بھائی کی بیٹی اس بھائی کے لیے حلال ہو،شرع،عرف،عقل،نقل کسی میں بھی اس لغو وبیہودہ فرق کی گنجائش ہوسکتی ہے؟ حاشا ہر گزنہیں۔
نص ٣٠: شرح وقایہ میں فرمایا: ؎
از جانب شیردہ ہمہ خویش شوند وزجانب شیرخوارہ زوجان وفروع [1]
(دودھ پلانے والی کی جانب سے تمام رشتے حرام ہوں گے اور شیرخوار کی جانب سے وہ اورا س کا زوج یا زوجہ اور اس کے فروع حرام ہوں گے۔ت)
یہ شعر نقایہ و شرح الکنز للملامسکین میں بھی مذکور ہے۔فاضل چلپی وفاضل قرہ باغی محشیان شرح وقایہ و علامہ برجندی شارح نقایہ نے توا س پر ایك حرف بھی نہ لکھااور علامہ قہستانی نے دو سطریں فارسی میں لکھ دیں جن سے ظاہری الفاظ کے سوا مغز مطلب کی کچھ تو ضیح نہ ہوئی عــــہ۱ ۔ اور علامہ سید ابوالسعود ازہری نے فتح الله المیعن میں آدھی سطراس کے ترجمہ عربی کی لکھی جو شعر کے صرف ایك مصرع کا بھی آدھا ہی ترجمہ ہے عــــہ۲ سب سے
|
عــــہ۱: حیث قال یعنی شیر دہندہ وشوہرش بافرزندان وپدران ومادران وخواہران ایشاں خویش خوارہ شوند وشیر خوارہ وزنش یا شوہرش بافرزندان خویش شیر دہندہ و شوہرش شوند ١٢ [2]۔(م) عــــہ۲: حیث قال معنی البیت ان زوجات الرضیع و فروعہ یحرمن علٰی ابیہ [3] ١٢(م) |
یوں کہا یعنی دودھ پلانے والی اور اس کا خاوند،ان کی اولاد، والدین،بھائی اور ان کی بہنیں شیرخوار کے رشتہ دار ہوں گے اور دودھ پینے والا اس کی بیوی یا خاوند،اولاد سمیت دودھ پلانے والی اورا س کے خاوند کے رشتہ دار ہوں گے ١٢(ت) یوں کہا شعر کا معنی یہ ہے کہ دودھ پلانے والے کی بیویاں اور اس کی اولاد اپنے رضاعی باپ پر حرام ہیں ١٢(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع