30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نص ٢٦: یونہی متن وافی میں لایحل للرجل ان یتزوج بامہ وبنتہ واختہ وبنات اختہ وبنات اخیہ فرماکر شرح کافی میں فرمایا:
|
اعلم ان من ذکرنا من المحرمات من اول الفصل الی ھناتحرم من الرضاع [1] ایضًا۔ |
یعنی ماں اور بیٹی اور بہن اور بھانجی اور بھتیجی حرام ہیں اور یہ جتنی محرمات شروع سے یہاں تك ہم نے ذکرکیں سب دودھ کے رشتہ سے بھی حرام ہیں۔ |
نص ٢٧: تبیین الحقائق میں ہے:
|
یحرم علیہ جمیع من تقدم ذکرہ من الرضاع وھی امہ واختہ وبنات اخوتہ [2] الخ۔ |
یعنی جتنی عورتیں مذکورہوئیں سب دودھ کے رشتہ سے بھی حرام ہیں رضاعی ماں اور بیٹی اور بہن اور رضاعی بہن اور بھائی کی بیٹیاں۔ |
نص ٢٨: درمختار میں ہے:
|
حرم علی المتزوج ذکرا اوانثی اصلہ وفرعہ وبنت اخیہ واختہ وبنتھا والکل رضاعًا [3]۔ |
یعنی ہر مرد وعورت پر اس کے ماں باپ،دادا دادی،نانا نانی،بیٹا بیٹی،پوتاپوتی،نواسا نواسی،بھتیجا بھتیجی،بہن اور بھائی کے بیٹا بیٹی خواہ یہ رشتے نسب سے ہوں یا دودھ سے،حرام ہیں۔ |
نص ٢٩: جوہر نیرہ میں ہے:
|
کذلك بنات اخیہ وبنات اختہ من الرضاعۃ لقول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یحرم من الرضاع ماٰیحرم من النسب [4]۔ |
یعنی نسبی کی طرح رضاعی بھائی بہن کی بیٹیاں بھی حرام ہیں کہ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جو نسب سے حرام ہے وہ دودھ سے بھی حرام ہے۔ |
ان تمام نصوص جلیلہ میں بالاتفاق بلا خلاف صاف صاف واشگاف تصریحیں فرمائیں کہ رضاعی بھائی بہن کی بیٹیاں، بھانجی،بھتیجی نسبی کی طرح حرام قطعی ہیں،اور شك نہیں کہ اخوت رشتہ متکررہ ہے کہ دونوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع