30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نص ٩ و ١٠: امام اجل ابو زکریا نووی شرح صحیح مسلم اور امام بدرالدین عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں شوہر مرضعہ کی نسبت فرماتے ہیں:
|
واللفظ للنووی فمذھبنا ومذھب العلماء کافۃ ثبوت حرمۃ الرضاعۃ بینہ وبین الرضیع ویصیر ولدالہ ویکون اولاد الرضیع اولاد الرجل ١[1]۔(ملخصًا) |
امام نووی کے الفاظ میں ہمارا اور تمام علماء کا مذہب یہ ہے کہ رضیع اور شوہر مرضعہ میں حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے،رضیع اس کا بچہ ہوجاتاہے اور رضیع کی اولاد اس شخص کی اولاد ہوجاتی ہے، |
یعنی اولاد رضیع جس طرح مرضعہ کی پوتا پوتی نواسا نواسی باجماع قطعی ہے یونہی باجماع مذاہب اربعہ وجملہ ائمہ وفقہاوہ شوہر مرضعہ کے بھی پوتے نواسے ہیں،اور باجماع امت مرحومہ اپنے ماں باپ کے پوتا پوتی نواسا نواسی اپنے لیے حرام قطعی اور اپنے بھتیجا بھتیجی بھانجا بھانجی ہیں۔
نص ١١ و ١٢ و ١٣ و ١٤: فتح القدیر،بحرالرائق،طحطاوی،مرقاۃ شرح مشکوٰۃ وغیرہا میں ہے:
|
انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم احال مایحرم من الرضاع علی مایحرم من النسب ومایحرم من النسب مایتعلق خطاب تحریمہ بہ و قدتعلق بما قد عبر عنہ بلفظ الامھات والبنات واخواتکم وعماتکم وخالاتکم وبنات الاخ وبنات الاخت فما کان من مسمی ھذہ الالفاظ متحققا من الرضاع حرم فیہ [2]۔ |
یعنی رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے دودھ کی حرمتوں کو نسب کی حرمتوں پر حوالہ فرمایا کہ جو نسب سے حرام ہے دودھ سے بھی حرام ہے،اور نسب سے وہ حرام ہیں جن سے خطاب الہٰی تحریم کے ساتھ متعلق ہوا،اور وہ ان سے متعلق ہوا ہے،جن پر ماں اور بیٹی اور بہن اور پھوپھی اور خالہ یا بھائی کی بیٹی یا بہن کی بیٹی کا لفظ صادق آئے تو دودھ کے رشتوں میں جن جن پر یہ لفظ صادق آئیں وہ بھی حرام ہیں۔ |
ظاہر ہے کہ اپنی ماں نے جسے دودھ پلایا اس پر بہن یابھائی کالفظ صادق ہے اور اس لیے وہ اپنے اوپر حرام ہے تو اس کی اولاد پر اپنے بھائی یا بہن کے بیٹے کالفظ صادق ہے لاجرم وہ بھی قطعًا حرام ہیں،
نص ١٥: فتاوٰی بزازیہ میں ہے:
|
الاصل الکلی فی الرضاع ان کل امرأۃ |
یعنی دودھ کے رشتوں میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع