30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقارب المرضعۃ کل من یحرم علی ولدھا من النسب [1]۔ |
رضیع کی اولاد پر مرضعہ کے وہ سب رشتہ دارحرام ہوجائیں گے جو مرضعہ کی نسبی اولاد پر حرام ہیں، |
یہ عام نص صریح ہے کہ رضیع کی تمام اولا دپر مرضعہ کی تمام اولاد حرام ہے،
نص ٦: تفسیر نیشاپور میں دودھ کی بھتیجیوں بھانجیوں کے بیان میں ہے:
|
کذلك بنات من ارضعت امك [2]۔ |
یعنی اسی طرح جس کو تیری ماں نے دودھ پلایا۔ |
وہ مرد تھا اس کی بیٹیاں تیری بھتیجیاں ہوگئیں،اور عورت تھی تو اس کی بیٹیاں تیری بھانجیاں ہوگئیں اور یہ سب بنت الاخ وبنت الاخت میں داخل اور حرام ہیں۔
نص ٧: مستخلص شرح کنز میں ہے:
|
تحرم زوجۃ الرضیع علی زوج المرضعۃ و کذابنات بناتہ علی زوج المرضعۃ وابنائہ کذا فھم من شرح الوقایۃ [3]۔ |
یعنی رضیع کی بی بی مرضعہ کے شوہر پر حرام ہے یو نہی رضیع کی بیٹیاں نواسیاں مرضعہ کے شوہر اورا س کے بیٹوں پر حرام ہیں،شرح وقایہ کا مفاد یہی ہے۔ |
نص ٨: ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالٰی عنہا کی حدیث کہ صحیحین بخاری ومسلم میں ہے:
|
جاء عمی من الرضاعۃ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ عمك فلیلج علیك [4] ھذا مختصر۔ |
میرے رضاعی چچا آئے،رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: دودھ کا چچا بھی چچا ہے،ان سے پردہ کی حاجت نہیں۔(مختصرًا) |
شیخ محقق نے لمعات میں رضاعی چچا کی یہ تفسیر فرمائی:
|
بان ام ابیھا ارضعتہ اوامہ ارضعت اباھا [5]۔ |
یعنی دودھ کے چچا یوں کہ یا تو ام المومنین کی دادی نے انھیں دودھ پلایا یا ان کی ماں نے ام المومنین کے باپ کو دودھ پلایا۔ |
یہ صورت دوم تصریح صریح ہے کہ اپنی ماں نے جسے دودھ پلایا اس کی بیٹی اپنی بھتیجی اور محرم ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع