30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نکاح فرمالیں،رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
انھا لاتحل لی انھا ابنۃ اخی من الرضاعۃ ویحرم من الرضاعۃ مایحرم من الرحم ١[1]۔ |
وہ میرے لیے حلال نہیں وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے،اور جو کچھ نسبی رشتہ سے حرام ہے وہ دودھ سے بھی حرام ہے، |
دوسری حدیث کے لفظ یہ ہیں:
|
اما علمت ان حمزۃ اخی من الرضاعۃ وان اﷲ حرم من الرضاعۃ ماحرم من النسب [2]۔ |
تمھیں معلوم نہیں کہ حمزہ میرے دودھ شریك بھائی ہیں اور الله نے جو رشتے نسب سے حرام فرمائے وہ دودھ سے بھی حرام فرمائے ہیں۔ |
صاف اشارہ ہے کہ رضاعی بھائی کی بیٹی حرام ہے جب بھائی نے اپنی بہن کا دودھ پیا تو وہ اپنی بہن کے بیٹے کا رضاعی بھائی ہوگیا تو اس کی بیٹی بہن کے بیٹے کے لیے کیونکر حلال ہوسکتی ہے!
نص ٣: نیز صحیحین میں زینب بنت ابی سلمہ رضی الله تعالٰی عنہما سے ہے،حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے درہ بنت ابی سلمہ رضی الله تعالٰی عنہما کے بارے میں فرمایا:
|
لولم تکن ربیبتی ماحلت لی ارضعتنی واباھا ثویبۃ [3]۔ |
یعنی اول تو میری ربیبہ ہے کہ ام المومنین ام سلمہ رضی الله تعالٰی عنہا کی بیٹی ہے اور اگر ربیبہ نہ بھی ہوتی جب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی کہ اس کے باپ ابو سلمہ میرے رضاعی بھائی تھے مجھے اور ان کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے صلی الله تعالٰی علیہ وعلیہم وسلم۔ |
یہ بھی اس طرح نص صریح ہے کہ رضاعی بھائی کی بیٹی حرام ہے۔
نص ٤ و ٥: مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں شرح السنۃ امام بغوی رحمہ الله تعالٰی سے شرح حدیث اول میں ہے:
|
فی الحدیث دلیل علی ان حرمۃ الرضاعۃ کحرمۃ النسب فی المناکح فاذا ارضعت المرأۃ رضیعا یحرم علی الرضیع و اولادہ من |
یعنی اس حدیث میں دلیل ہے کہ نکاحوں کے بارے میں دودھ اور نسب کی حرمت ایك سی ہے،تو جب کوئی عورت کسی بچہ کا دودھ پلائے تو اس رضیع اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع