30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مہر من کردہ شد، |
ان پر اعتماد کرتے ہوئے سرسری نظر سے میری مہر لگادی گئی۔(ت) |
حلال وحرام خصوصًا معاملہ فروج میں نظر سرسری کا عذر اپنی کیسی صریح بددیانتی اورآتش جہنم پر سخت جرأت و بیباکی کا کھلا اقرار ہے،رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
اجرؤکم علی الفتیا اجرؤکم علی النار [1]۔ |
تم میں سے جو فتووں پر زیادہ جرأت کرتاہے وہ آگ پر زیادہ جرأت کرتا ہے۔(ت) |
خیر یہ تو غیر مقلد کے لازم بین ہے مگر"براعتماد زایشاں"نے انکے اجتہاد کی جان پر پوری قیامت توڑ دی،اے سبحان اللہ! مجتہدی کا دعوٰی اورایك ادنی سے ادنی مقلد پر حلال وحرام میں یہ تکیہ بھروسا،اور اس"کردہ شد"کے لطف کو تو دیکھئے،کیا شرمایا ہوا صیغہ مجہول ہے،گویا انھوں نے خود اس پر مہر نہ کی کوئی اور کرگیا،الله یوں اپنی نشانیاں دکھا دیتا ہے اور ائمہ کے مقابلہ کا مزہ چکھا تا ہے نسأل اﷲ العفو والعافیہ(ہم الله تعالٰی سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں،ت)اسکی تفصیل اسی زمانہ میں رسالہ سیف المصطفی علی ادیان الافترا میں لکھی گئی،دوبارہ اسی زنائے محارم کو حلال کرنے کی سخت اشد آفت کلکتہ سے اٹھی،کوئی صاحب مولوی لطف الرحمن بردوانی ہیں انھوں نے جہان بھر کے تمام علماء کو مخاطب کرکے ایك عربی طویل سوال چھپوایا اور یہاں بھیجا،بفضلہ تعالی اس کے جواب میں یہاں سے عربی رسالہ نقد البیان لحرمۃ ابنۃ اخی اللبان اعلٰی مباحث ودلائل فقہ ونصوص پر مشتمل تصنیف ہوکر بھیج دیا گیا،جس نے بحمد الله تعالٰی سارا اُبال بیٹھا کر جَآءَ الْحَقُّ وَ زَہَقَ الْبٰطِلُ ؕ اِنَّ الْبٰطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا ﴿۸۱﴾[2](حق آیا اور باطل زائل ہوا بیشك باطل زوال پذیر ہے۔ت)کا نقشہ کھینچ دیا، اب سہ بارہ یہ بلائے عظیم لاہور سے اٹھنے کورہ گئی تھی،گویا ہر سولھویں سال اس وبال میں اُبال آتا ہے،پہلے ١٢٩٨ھ میں اُٹھا پھر ١٣١٤ھ میں،اب ١٣٣٠ھ میں،وہابیت کو ایسے فتوے زیب دیتے تھے کہ ان کے قلوب اوندھے کردئے جاتے ہیں،مگر اس بار صدمہ سخت تر ہے کہ ہمارے بعض سنی علماء نے اس میں شرکت کی، انا ﷲ وانا الیہ راجعون ،ابھی چندہی مہینے تو ہوئے کہ فقیر نے اس واقعہ ہائلہ نذیر حسین دہلوی کو اپنا رسالہ تازہ کا سرالسفیہ الواھم فی ابدال قرطاس الدارھم میں ذکر کیا اور وہ چھپ کر شائع ہوگیا،احباب نے یا تو اُس ضروری تصنیف کو براہ بے پرواہی ملاحظہ نہ فرمایا،یا اس قدر بھول گئے،انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔فقیر از انجا کہ"نقد البیان"میں بہ تقریب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع