30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
للعلامۃ قاسم والدرالمختار ثالثا حکم بخلاف قاضی مجتہد راست مقلدرا روانبود بر خلاف امام خود حکم کردن تنویر الابصار ست قضی فی مجتھد فیہ بخلاف رأیہ لاینفذ مطلقا وبہ یفتی [1] ودرمختار است ؎ ولوحکم القاضی بحکم مخالف لمذھبہ ماصح اصلایسطر [2] در ردالمحتار آورد اما المقلد فلایملك المخالفۃ [3] مجیب عبارتش از سابق ولاحق قطع کردہ آورد و خود درقدر منقول خود لفظ ادعی ندید رابعا اگر از ہمہ گزرند قضاء شرعی چیز یست کہ رفع خلاف مے کند،نہ کہ دو حروف خوانند وخود رابرمندِ افتاء نشانند،ہرچہ خواہند برزبان رانند، و خلاف مرتفع شود،ومذہب مردود ومندفع حاشا ﷲ لا یقول بہ جاھل فضلا عن فاضل نسأل اﷲ العفو والعافیۃ،واﷲ تعالٰی اعلم۔ فقیر مصطفی رضاخاں قادری نوری غفرلہ |
کی تصحیح القدوری میں اور درمختار میں ہے،ثالثًا مخالف کے قول پر فیصلہ کا اختیار صرف مجتہد قاضی کو ہے،مقلد کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنے امام کے قول کے خلاف فیصلہ کرے،تنویر الابصار میں ہے کہ قاضی کا مجتہد فیہ میں اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ مطلقًا نافذ نہ ہوگا اور اسی پر فتوی ہے،اور درمختار میں ہے کہ اگر قاضی نے اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ دیا تو نافذ نہ ہوگا اور یہ صحیح نہ ہوگا۔اور ردالمحتار میں کہا: لیکن مقلد اپنے مذہب کی مخالفت نہیں کرسکتا مجیب نے ان کی عبارت سیاق وسباق سے کاٹ کر پیش کی اور خود اس نے جوان کی عبارت نقل کی اس میں لفظ ادعی کو نہ دیکھا،رابعًا یہ کہ اگر مذکورہ امور کو نظر انداز بھی کردیں تو قضا شرعی طور پر ایسا اہم عہدہ ہے کہ جس میں جمہور کے خلاف کو ختم کیا جاتا ہے،نہ کہ چند حرف پڑھ لیے اور مسند قضا پر بیٹھ کر جو کچھ چاہے اس کو زبان پر جاری کردے اور یہ خیال نہ کر ے کہ میرے فیصلہ سے خلاف قوی اور مذہب کمزور ہوگا،الله تعالٰی کا خوف ہو تو خلاف والا قول جاہل بھی نہ کرے چہ جائیکہ کوئی فاضل کرے،الله تعالٰی سے عافیت اور معانی کی درخواست ہے، والله تعالٰی اعلم۔ فقیر مصطفی رضاخاں قادری نوری غفرلہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع