30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وغیرھم لانعلم بینھم فی ذٰلك اختلافا [1]وحکم برخلاف سنت مشہورہ نافذ نہ شود،در تنویر الابصار است اذا رفع الیہ حکم قاض آخر نفذہ الاماخالف کتابًا اوسنۃ مشہورۃ اواجماعا[2]ثانیا مخالف اجماع من یعتد باجماعہم افتادہ ست کما تقدم بیانہ،وامام شعرانی شافعی درمیزان الشریعۃ الکبرٰی فرمود اتفق الائمۃ علی انہ یحرم من الرضاع مایحرم من النسب [3]وحکم برخلاف اجماع نفاذنیست، ائمہ ثقات اثبات از حکایات شاذہ غافل نبودند بلکہ خود ذکر نمودہ اند بازتصریح فرمودہ کہ دریں مسئلہ جز ظاھریہ وابن علیہ کسے راخلاف نیست چنانکہ از امام قاضی عیاض مالکی وامام ابو زکریا نووی شافعی وامام محمود عینی حنفی گزشت فمن الغریب نسبۃ الغراب الیھم علی ماوقع فی فتح المغیث واگر بالفرض اینجا قولے ضعیف محکی بود کما اول بہ فی الفتح الفقھی،پس حکم وفتوے بر قول ضعیف ومرجوح خود جہل وخرق اجماع است کما فی تصحیح القدوری
|
اور سنت مشہورہ کے خلاف حکم نافذ نہیں ہوسکتا،اور تنویر الابصار میں ہے کہ جب ایك قاضی کے پاس دوسرے قاضی کا حکم پہنچے تو ا س کو نافذ کرے بشرطیکہ کتاب اللہ،سنت رسول الله اوراجماع کے خلاف نہ ہو،ثانیا اس لیے کہ جن لوگوں کا اجماع معتبر ہے ان کے اجماع کے بھی خلاف ہے جیساکہ پہلے بیان ہوچکا ہے،اور امام شعرانی نے میزان الشریعۃ الکبرٰی میں فرمایا ہے کہ ائمہ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ جو رشتہ نسب کی وجہ سے حرام ہے وہ رضاع کی وجہ سے بھی حرام ہے اور اجماع کے خلاف حکم نافذ نہیں ہوسکتا،اور کسی مسئلہ کو ثابت قرار دینے والے ائمہ ثقات خود بھی شاذ حکایات سے غافل نہیں ہوتے بلکہ خود ان کوذکر کردیتے ہیں،نیز انھوں نے یہ تصریح بھی کی ہے کہ اس مسئلہ کا ظاہریہ اور ابن علیہ کے بغیر کسی نے خلاف نہیں کیا،جیساکہ امام قاضی عیاض،ابو زکریا نووی شافعی اورامام محمود عینی حنفی سے گزرا فتح المغیث میں ان حضرات کی طرف شاذ امور کو منسوب کرناتعجب کی بات ہے،اگر بالفرض یہاں کوئی ضعیف قول نقل کیا گیا ہو جیساکہ فتح القدیر میں تاویل کی گئی ہے تو بھی ضعیف قول او رمرجوع قو ل پر فتوٰی دینا خود جہالت اور اجماع کے خلاف ہے جیسا کہ علامہ قاسم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع