30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وابی حنیفہ وصاحبیہ ومالك واحمد کجمھور الصحابۃ و التابعین وفقہاء الامصار [1]،امام حافظ قسطلانی شافعی در فتح الباری فرماید ذھب الجمہور من الصحابۃ والتابعین وفقہاء الامصار کابی حنیفۃ وصاحبیہ ومالك والشافعی و احمد واتباعھم الی ان لبن الفحل یحرم [2] امام ابو یوسف اردبیلی شافعی در کتاب الانوار فرماید والفحل الذی منہ اللبن ابوہ واولادہ من المرضعۃ وغیرھا اخوتہ واخواتہ[3]، علامہ زین الدین شافعی تلمیذ ابن حجر مکی در قرۃ العین فرماید تصیر المرضعۃ امہ وذواللبن اباہ وتسری الحرمۃ من الرضیع الٰی اصولھما وفروعھما وحواشیھما نسبًا ورضاعًا [4] تاایں جاہمہ نصوص کبرائے شافعیہ است وصاحب البیت ابصربما فی البیت وصاحب الدار ادری، امام اجل قاضی عیاض مالکی درشرح صحیح مسلم فرماید لم یقل احد من ائمۃ الفقھاء واھل الفتوی باسقاط حرمۃ لبن الفحل |
فرمایا اور نسب کی طرح قرار دیا ہے اور یہی مذہب امام شافعی،ابوحنیفہ اور ان کے صاحبین امام مالك اور امام احمد بن حنبل کا ہے جس طرح کہ صحابہ اور تابعین اور تمام علاقوں کے علماء کا یہی مذہب ہے،اور امام قسطلانی شافعی نے فتح الباری میں فرمایاکہ تمام صحابہ،تابعین اور فقہاء ابوحنیفہ ان کے صاحبین، مالک، شافعی اور احمد اور ان کے تمام متبعین کا مذہب یہ ہے کہ دودھ والا مرد بھی حرام ہوتا ہے،امام ابو یوسف اردبیلی شافعی نے کتاب الانوار میں فرمایا کہ جس مرد سے عورت کو دودھ اترا وہ دودھ پینے والے بچے کا باپ ہے اور اس کی تمام اولاد خواہ اس مرضعہ سے ہو یا کسی دوسری عورت سے وہ سب اس بچے کے بہن بھائی ہوں گے،علامہ زین الدین شافعی ابن حجر مکی کے شاگرد قرۃ العین میں فرماتے ہیں کہ دودھ پلانے والی،ماں،اور دودھ والا مرد باپ ہوگا،اور پھر یہ حرمت بڑھ کر بچے سے مرد و عورت کے اصول وفروع اور ان کے نسبی اور رضاعی متعلقین تك سرایت کرجاتی ہے،تمام نصوص شافعی حضرات کی اس مسئلہ میں یہی ہیں،جبکہ گھر والا گھر کی باتوں کو زیادہ جانتا ہے،برگزیدہ امام قاضی عیاض مالکی صحیح مسلم کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ائمہ فقہاء اور اصحاب فتوی میں سے کسی نے بھی دودھ والے خاوند کی حرمت کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع