30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ویصیر ولدالہ واولاد الرجل اخوۃ الرضیع واخواتہ ویکون اخوۃ الرجل اعمام الرضیع واخواتہ عماتہ، ویکون اولاد الرضیع اولاد الرجل ولم یخالف فی ھذہ الااھل الظاھر وابن علیۃ [1] ایں تصریح صریح ایں امام شافعیہ ببیں کہ مذہب ماوجملہ علماء تحریم ست ودروخلاف نہ کرد ندجزء فرقہ ظاہریہ وابن علیہ طرفہ آنکہ مجیب عبارت مذکورہ نووی از ینجا نقل کرد کہ لم یخالف فی ھذہ الخ وصد رکلام کہ فرمودہ بودند کہ مذہب ماو مذہب جملہ علماء تحریم ست در پردہ اخفا داشت وامام شافعی رضی الله تعالٰی عنہ راظلمًا ازاہل ظاھر شمرد حالانکہ ظاہر یہ طائفہ ایست مخالف ائمہ اربعہ وسائر مجتہدین شاہ عبدالعزیز صاحب گفتہ اندا داؤد ظاھری ومتبعانش را از اہل سنت وجماعت شمردن درچہ مرتبہ از جہل وسفاہت ست رافضیاں کہ ظاھریہ راسنی گرفتہ باقوال ایشاں بر اہلسنت اعتراض می کردند،شاہ صاحب جوابش دادند کہ فرقہ ظاھریہ ہر گز از اہلسنت نیست،ایں جہل وسفاہت شماست کہ ایشاں راسنی گرفتہ برسنیان طعن مے کنید،امام ابن حجر مکی شافعی درکف الرعاع فرماید واعلم
|
حرمت رضاع ہوگی اوریہ اس بچے کا باپ ہوگا اور اس کی دوسری اولاد اس بچے کے بہن بھائی ہوں گے اور اس شخص کے اپنے بھائی بہن اس بچے کے لیے چچا اور پھوپھی ہوں گے اور اس بچے کی اولاد اس شخص کی اولاد قرار پائے گی،اس میں اہل ظاہر وابن علیہ کے بغیر کسی کو اختلاف نہیں۔ شافعی حضرات کے امام کی صاف تصریح ہے کہ ہم اور تمام علماء اس تحریر پر متفق ہیں اور ہمارا یہ مذہب ہے اس میں فرقہ ظاہریہ اور ابن علیہ کے بغیر کسی نے خلاف نہ کیا،تعجب ہے کہ مجیب نے امام نووی کی صرف اتنی عبارت کہ"مخالفت نہیں کی"کو نقل کیا اور اس سے پہلی عبارت کہ"ہمارا تمام علماء کا مذہب تحریم ہے"کو چھپالیا اور پھر امام شافعی رحمہ الله تعالٰی کو غلط طورپر اہل ظواہر میں شمار کردیا،حالانکہ ظاہریہ فرقہ تمام ائمہ مجتہدین کے خلاف ہے،شاہ عبدالعزیز رحمہ الله تعالٰی علیہ نے فرمایا ہے کہ داؤ د ظاہری اوراس کے پیروکار کو اہلسنت سے شمار کرنا انتہائی جہالت ہے،رافضیوں نے ظاہریہ فرقہ کو اہلسنت کہہ کر ان کی باتوں کی وجہ سے اہلسنت پر اعتراض کئے ہیں،شاہ صاحب نے جواب میں رافضیوں کو فرمایا کہ ظاہری فرقہ ہر گز اہلسنت نہیں ہے ان کو اہلسنت کہنا تمھاری انتہائی جہالت ہے جس کی وجہ سے تم سنیوں پر اعتراض کرتے ہو، امام ابن حجر مکی شافعی اپنی کتاب کف الرعاع میں فرماتے ہیں: جاننا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع