30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا [1] مفتیان خشم نہ کنند اینکہ گفتہ شد خیرخواہی ایشاں بود،حرام خدا راحلال گرفتن وزنائے پدر بادخترش روا داشتن نہ سہل کارے ست۔ہرکہ ہمچو ضلالت فظیعہ تنبیہ کرد مستوجب شکراست نہ مستحق شکایت وَاللہُ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرٰطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ﴿۲۱۳﴾ [2] وبرآں ناکح زانی فرض ست کہ دختر رااز تصرف خود واگزارد وبرآں منکوحہ مزنیہ فرض ست کہ بپائے کہ دارد از زنائے پدرش بگریزد فورًا فورًا ورنہ آناں ومزوجان آناں ومجوزاں اینہا ھمہ عذاب شدید الہٰی منتظر باشند،نسأل اﷲ العفو والعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم، امام اجل ابو زکریا نووی کہ احد الشیخین مذہب امام شافعی ست ونص اوہمچو نص امام شافعی ست رضی الله تعالٰی عنہم در شرح صحیح مسلم فرماید اما رجل المنسوب ذٰلك اللبن الیہ لکونہ زوج المرأۃ اووطئھا بملك اوشبھۃ فمذھبنا ومذھب العلماء کافۃ ثبوت حرمۃ الرضاعۃ بینہ وبین الرضیع |
کیا جائے گا تو بغیر علم فتوی دینگے خود بھی گمراہ ہونگے اور لوگوں کو بھی گمراہ کردیں گے،ان مفتیوں کویہ کہتے ہوئے خوف خدا نہیں کہ یہ خیر خواہی ہے،الله تعالٰی کے حرام کردہ کو حلال بنانا اور باپ بیٹی سے زنا کو جائز کرنا کوئی آسان کام ہے،ہرگزنہیں، اور جس شخص نے ان کی اس گمراہی پر تنبیہ کی وہ شکریہ کا مسحق ہے نہ کہ شکایت کا،اور الله تعالٰی جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرماتا ہے،اس نکاح کرنے والے زانی پر فرض ہے کہ وہ فورًا لڑکی کو آزاد کردے اور جدائی اختیار کرے،اور منکوحہ مزنیہ پر لازم ہے کہ اپنی توفیق کے مطابق رضاعی باپ کے زنا سے فورًا بچے اور جدائی اختیار کرے ورنہ یہ دونوں اور نکاح کو نافذ کرنے والے اور جائز کرنے والے سب الله تعالٰی کے شدید عذاب کا انتظار کریں،ہم الله تعالٰی سے عافیت اور معافی کا سوال کرتے ہیں ولا حول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔شافعی مسلك کے شیخین میں سے ایك برگزیدہ امام ابو زکریا نووی جن کی نص امام شافعی رحمہ الله تعالٰی علیہ کے منصوص کی طرح ہے،انھوں نے شرح مسلم شریف میں فرمایا ہے کہ وہ شخص جس کی طرف یہ دودھ منسوب ہے کیونکہ یہ عورت کا خاوند ہے یا لونڈی کا مالك یا شبہ کی بناپر وطی کی ہے تو اس کے متعلق ہمارا اور تمام علماء کا مذہب ہے کہ اس کے اور دودھ پینے والے بچے کے درمیان |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع