30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وایضا فیہ تحت قول الدرالمختار واما المقلد الخ نقلہ فی القنیۃ عن المحیط وغیرہ وجزم بہ المحقق فی فتح القدیر وتلمیذہ العلامہ قاسم وادعی فی البحران المقلد اذا قضی بمذھب غیرہ وبروایۃ ضعیفۃ اوبقول ضعیف نفذ۔اقوی ماتمسك بہ مافی البزازیہ عن شرح الطحاوی اذالم یکن القاضی مجتہدًا وقضی بالفتوی ثم تبین ان علی خلاف مذھبہ نفذ ولیس لغیرہ نقضہ ولہ ان ینقضہ کذا عن محمد وقال الثانی لیس لہ ان ینقضہ ایضا [1]۔لان امضاء الفعل کامضاء القاضی لاینقض [2]، و دلیل مذہب الظاھر کہ ملصق بہ سنت جماعت ست ومخالف فرعی درباب رضاعت باحناف می دارند ہمچوں امام ہمام شافعی وغیرہ ہستند ہمیں ست چنانچہ شارح مسلم امام نووی درشرح آں مے نگارند ولم یخالف فی ھذا الااھل الظاھر وابن علیۃ فقالوا لاتثبت حرمۃ الرضاع بین الرجل والرضیع ونقلہ المازری
|
"امام المقلد"کے تحت فرمایا کہ قنیہ نے محیط وغیرہ سے نقل کیا اور اس پر فتح القدیر میں محقق اور ان کے شاگرد علامہ قاسم نے جزم کیا ہے اور بحر میں دعوٰی کے طورپر کہا کہ قاضی مقلد نے اگر غیر کے مذہب یا ضعیف قول یا روایت پر فیصلہ دے دیا تو وہ نافذ ہوگا،اور اس سلسلہ میں بہترین استدلال بزازیہ کی شرح طحاوی سے منقول عبارت ہے کہ جب قاضی مجتہد نہ ہو اور کسی کے فتوٰی پر فیصلہ کردیا ہو تو بعد میں اگر معلوم ہوا کہ اس نے اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ دیاہے تو فیصلہ نافذ رہے گا،اور دوسرا قاضی اس کو رد نہیں کرسکتا،ہاں وہ خود کالعدم کرسکتا ہے،امام محمد رحمہ الله تعالٰی سے یوں منقول ہے،اور دوسرے امام یعنی ابویوسف رحمہ الله تعالٰی نے فرمایا کہ خود اس قاضی کو بھی کالعدم کرنے کا حق نہیں کیونکہ عمل نافذ ہوجانے پر گویا کہ قاضی نے نافذ کردیا ہے اور نافذ شدہ کو کالعدم نہیں کہا جاسکتا،اور اہل ظواہر کا مذہب بھی اہلسنت میں شامل ہے او راس کا صرف فروعی اختلاف رضاعت کے بارے میں احناف سے ہے یہ بھی امام شافعی کی طرح ہیں۔چنانچہ شارح مسلم شریف امام نووی نے اپنی شرح میں ذکر کیا ہے،کہ اس میں صرف اہل ظاہر اور ابن علیہ کا خلاف ہے کہ وہ کہتے ہیں دودھ پینے والی لڑکی اور مرد کے درمیان رضاعت کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔اور اس کو مازری نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع