30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صحیح ودرست دارند ونیز ازیں تقلید ظنی از مذہب مستمرہ خود خارج نہ شوند ومنسوب بداں مذہب دیگر نگردند پس مناکحت قاسم بدیں منوال بہمیں مقال صادق ست کہ لاریب ولا محالہ صحیح ونافذ گردیدہ است اگرچہ بالفرض والتقدیر مخالف مذہب حنفی آمدہ لیکن بمسلك اہل ظواہر کمثل امام ہمام شافعی علیہ رضوان الباری وغیرہ کہ مسلوك ومشمول بسنت جماعت ست بپرداختہ در پیوستہ کہ علمائے احناف بظن جواز مذہب شان مظنون شدہ بنت بنت رضاعی رامر برادر حقیقی قاسم مذکور بود حکم نکاحش دادہ بودند بحالتیکہ درتحت حجاب ممنوعات کلیہ حنفیہ محجوب ومستور بودہ ودرضمن ضاطبہ مامور بہا محللات اہل ظواہر کہ ہمچوں شافعی وغیرہ ہستند مکشوف ومظہر ماندہ پس ہر گز علماء احناف را نمی رسد کہ تفریق وافساد درنکاحش کنند کہ آں مستلزم تحقیر تنکیر سنت جماعت کردد وحقارت یکے را از سنت عند الله بموجب ضلالت دارد، کما قال العلامۃ ابن عابدین الشامی الحنفی فی ردالمحتار ناقلًا عن العلامۃ الشرنبلالی فی عقد الفرید،ان لہ التقلید بعد العمل کما اذاصلی ظانا صحتھا علٰی مذھبہ ثم تبین بطلانھا فی مذھبہ وصحتھا علی مذھب غیرہ فلہ تقلیدہ ویتحری بتلك الصلوۃ علی ماقال فی البزازیۃ انہ روی عن ابی یوسف انہ صلی الجمعۃ مغتسلًا من الحمام ثم اخبر بفارۃ فی بئرالحمام،فقال ناخذ بقول اخواننا من اھل المدینۃ اذابلغ الماء قلتین لم یحمل خبثا [1] اھ |
اہلسنت وجماعت ہیں کے ہاں نکاح درست ہوا،نیز علمائے احناف نے جب غلطی سے اس نکاح مـذکورہ کو جائز گمان کیا تو ان کے گمان میں جائز ٹھہرا کہ حقیقی بھائی کی رضاعی نواسی سے قاسم کا نکاح درست قرار دے کر کردیا اور ان کی نظر میں امام شافعی جیسے اہل ظواہر کے مسلك پر اس کا جواز معلوم ہوا تو اب علمائے احناف کو ہر گز جائز نہیں کہ وہ اس نکاح کو فاسد کریں اور تفریق کریں،کیونکہ جماعت کی اور ایك سنت اور مسلك کی تحقیر لازم آئے گی جو کہ عندالله گمراہی کا موجب ہے، جیساکہ علامہ شامی نے علامہ شرنبلالی سے ردالمحتار میں عقدالفرید سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کو عمل کے بعد بھی دوسرے کی تقلید جائز ہے جیساکہ اپنے مذہب کے مطابق نماز کو صحیح سمجھ کر ادا کیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے مذہب صحیح میں نہیں ہوئی مگر دوسرے امام کے مذہب میں صحیح ہوگئی تو اب دوسرے امام کی تقلید کرتے ہوئے نماز کو صحیح قرار دینا جائز بشرطیکہ نماز پڑھتے وقت اسی نے تحری کی ہو جیسا کہ بزازیہ میں فرمایا کہ امام ابو یوسف رحمۃ الله تعالٰی سے مروی ہے کہ انھوں نے ایك مرتبہ حمام کے پانی سے جمعہ کا غسل کیا پھر بعدمیں بتایا گیا کہ حمام میں چوہا مرا ہوا ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہم اپنے بھائی اہل مدینہ کے مسلك کو اپناتے ہوئے کہ جب پانی دو۲ قلے ہو تو ناپاك نہیں ہوتا اس پر عمل پیرا ہیں اھ اور نیز انھوں نے درمختار کے قول |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع