30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
غیر مقلدوں کے پیشوا نذیر حسین نے ایك وہابی خیال مولوی کے غلط فتوی پر مہر تصدیق لگادی اور اعلٰیحضرت کی طرف سے گرفت پر اس سے رجوع کیا دوسرا فتوٰی اس پہلے کے ردمیں لکھا اور عذر گناہ بدتر از گناہ پیش کیا۔ |
٤٨٩ |
رضیع کی بیوی مرضعہ کے شوہر پر حرام ہے۔ |
٤٩٣ |
|
آتش جہنم پر جرأت غیر مقلدی کے لئے لازم بین ہے۔ |
٤٩٠ |
رضیع کی بیٹیاں اور نواسیاں مرضعہ کے شوہر اور اس کے بیٹیوں پر حرام ہیں۔ |
٤٩٣ |
|
جو فتوٰی پر زیادہ جرأت کرتاہے وہ آگ پر زیادہ جرأت کرتا ہے۔ |
٤٩٠ |
دودھ کا چچا بھی چچا ہے ان سے پردہ کی حاجت نہیں۔ |
٤٩٣ |
|
الله تعالٰی ائمہ کے مقابلے کا مزہ چکھاتا ہے۔ |
٤٩٠ |
رضاعی چچا کی تفسیر۔ |
٤٩٣ |
|
کلکتہ کے مولوی لطف الرحمن بردوانی نے محارم سے نکاح کے جواز کے بارے میں جہاں بھر کے علماء کو مخاطب کرتے ہوئے ایك طویل عربی سوال چھپوایا جس کے جواب میں اعلٰیحضرت نے دلائل ونصوص پر مشتمل ایك رسالہ"نقد البیان لحرمۃ ابنۃ اخی اللبان"تحریر فرمایا ۔ |
٤٩٠ |
ماں کے رضاعی بیٹے کی بیٹی، بھتیجی اور محرم ہے۔ |
٤٩٣ |
|
رضیع ومرضعہ کی اولادوں کے درمیان نکاح کے حرام ہونے پر تیس نصوص۔ |
٤٩١ |
اولاد ر ضیع جس طرح مرضعہ کی پوتا پوتی، نواسا نواسی باجماع قطعی ہے یونہی باجماع ائمہ اربعہ وجملہ فقہا وہ شوہر مرضعہ کے بھی پوتے ہیں اور نواسے ہیں۔ |
٤٩٤ |
|
جو نسب سے حرام ہے وہ رضاعت سے بھی حرام ہے۔ |
٤٩١ |
دودھ کے رشتوں کا قاعدہ کلیہ یہ کہ اس سے چار قسم کی عورتیں حرام ہوتی ہیں۔ |
٤٩٤ |
|
حضور انور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی الله تعالٰی عنہ حضور پرنور کے رضاعی بھائی بھی ہیں۔ |
٤٩١ |
رضاعی بھائی بہن کی بیٹیاں نسبی بھانجی اور نسبی بھتیجی کی طرح حرام قطعی ہے۔ |
٤٩٦ |
|
رضاعی بھائی کی بیٹی حرام ہے۔ |
٤٩٢ |
اخوت رشتہ متکررہ ہے کہ دونوں طرف سے یکساں قائم ہوتا ہے۔ |
٤٩٦ |
|
حضرت ابو سلمہ رضی الله تعالٰی عنہ حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے رضاعی بھائی ہیں کیونکہ دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا۔ |
٤٩٢ |
یہ محال ہے کہ زید تو عمرو کا بھائی ہو اور عمرو زید کا بھائی نہ ہو۔ |
٤٩٧ |
|
نکاحوں کے بارے میں دودھ اور نسب کی حرمت ایك سی ہے۔ |
٤٩٢ |
شرح وقایہ کے شعر"از جانب شیردہ ہمہ خویش شوند، وازجانب شیرخوارہ زوجان وفروع"پر بحث۔ |
٤٩٧ |
|
رضیع کی تمام اولاد پر مرضعہ کی تمام اولاد حرام ہے۔ |
٤٩٣ |
شعر مذکور کا مطلب بیان کرنے میں صاحب عمدۃ الرعایہ کی شدید غلطی۔ |
٤٩٨ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع