30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
شوہر اگرمانتا ہے کہ ایسا ہوا تو عورت اس پر ہمیشہ کو حرام ہوگئی،کسی حیلہ سے اس کی زوجیت میں نہیں آسکتی،اس پر فرض ہے کہ اسے فورًا جدا کردے متارکہ کرے،مثلًا کہہ دے میں نے تجھے چھوڑا بے اس کے دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی اس لیے زیادہ طلاق کی بھی حاجت نہیں،اور اگر شوہر کو امر مذکور کا وقوع تسلیم نہیں تو صرف عورت کے کہنے سے ثبوت نہیں ہوسکتا،اگر شوہر نے طلاق نہ دی وہ اس کی عورت ہے اور دی تو جیسی طلاق دی ویسا حکم،اگر تین طلاقیں دیں تو بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔رہا مہر وہ تمام صورتوں میں مطلقًا لازم ہے مہر متاخر میں عورت کو لینے کا اختیاربعد متارکہ یا طلاق یا موت ہوگا۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٧٢: از مقام اکلترہ ضلع بلاسپور مسئولہ حامد علی صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے حقیقی بیٹے کی بیوی سے زنا کیا،اب کیا یہ بیوی اپنے اصلی شوہر جو کہ زانی کا لڑکا ہے پاس رہ سکتی ہے؟ اور اگر نہیں رہ سکتی تو دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے اور شوہر اول سے مہر لینے کی مستحق ہے کہ نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:
یہ کہ زنا کیا،جھوٹ بك دینے سے ثابت نہیں ہوسکتا اس کے لیے چار شاہد چاہئیں،بغیر اس کے زید کا باپ اگر اقرار بھی کرے اور زید باور نہ کرے تو اس کا اقرار زید پرحجت نہیں۔ہاں اگر شہادت شرعیہ سے ثابت ہوجائے یا زید اس کی تصدیق کرے تو عورت زید پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی مگر ابھی نکاح سے نہ نکلی،دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی جب تك زید اسے نہ چھوڑے،اورا س صورت میں زید پر فرض ہوگا کہ فورًا اسے چھوڑ دے،اس کے بعد عورت عدت کرے بعد عدت سوائے زید کے جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے،زید پر اس کامہر بہرحال لازم ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٧٣: از کولمبوسیلون مسئولہ عبدالقادر صاحب ٢٠ ذی الحجہ ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رشتہ داروں کی کن کن عورتوں سے نکاح کرسکتے ہیں اور کن کن سے ناجائز؟ مفصل تحریر فرمائیں۔بینوا تو جروا۔
الجواب:
وہ شخص جن کی اولاد میں ہے جیسے باپ،دادا،نانا،جو اس کی اولاد میں ہو جیسے بیٹا،پوتا،نواسا،ان کی بیبیوں سے نکاح حرام ہے اور خسر کی بی بی سے بھی حرام ہے جبکہ وہ اپنی زوجہ کی حقیقی ماں ہو،باقی رشتہ داروں کی بیبیوں سے ان کی موت یا طلاق وانقضائے عدت کے بعد نکاح جائز ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع