30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور بھائیوں بھتیجوں کی اولاد کتنی ہی دور ہوں۔
چوتھی وہ کہ ماں باپ کے سوا اور جن کی اولاد سے یہ شخص ہے جیسے دادا،دادی،نانا،نانی کتنے ہی اوپرکے ہوں ان کی خاص اپنی اولاد جیسے اپنی پھوپھی خالہ یا اپنے ماں یا دادا یا دادی یا نانا یا نانی کی پھوپھی خالہ،ان لوگوں کی اولاد کی اولاد حرام نہیں جیسے پھوپھی کی بیٹی یا خالہ کی بیٹی،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٦٧: از موضع سندھولی ضلع بریلی مسئولہ غفور صاحب ٢٧ شعبان ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك کنواری لڑکی کا حمل زید سے رہ گیا اس کے والدین نے عمرو کے ساتھ نکاح کردیا،اب علمائے دین کی خدمت بابرکت میں استغاثہ ہے کہ بعض کہتے ہیں کہ جس کا نطفہ ہے اس کے ساتھ نکاح جائز ہے اور بعض کہتے ہیں کہ عمرو کے ساتھ بھی نکاح جائز ہے۔
الجواب:
نکاح عمرو سے بھی جائز ہے مگر عمروکو اس کے پاس جانا منع ہے جب تك بچہ پیدا نہ ہولے،یہ اس صورت میں ہے کہ حمل زنا کا ہو،اور اگر زنا نہ ہوابلکہ شبہہ اور دھوکے سے زید اس کے ساتھ ہمبستر ہوا تو بیشك جب تك بچہ نہ ہولے دوسرے سے نکاح جائز نہیں۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٦٨:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ زید نے ہندہ سے نکاح کیا پھر اس کی بہن کو بھی گھر میں ڈال لیا اب زید کا ہندہ سے وطی کرنا کیسا ہے اور دونوں بہنوں کی اولاد کے بارے میں کیا حکم ہے؟ بَیِّنُوْا تُوْجَرُوْا۔
الجواب:
اگر دوسری کو بلانکاح گھرمیں ڈال لیا تو پہلی سے وطی بدستور جائز ہے اس سے جو اولاد ہوگی اولاد حلال ہے،اور اس دوسری سے صحبت حرام وزنا ہے اس سے جو اولاد ہوگی ولدالزنا ہوگی،اور اگر دوسری سے بھی نکاح کرلیا تو جب تك اسے ہاتھ نہ لگایا پہلی سے وطی حلال ہے۔لیکن جس وقت اس دوسری کو ہاتھ لگائے گا پہلی سے قربت بھی حرام ہوجائے گی،جب تك اس دوسری کو چھوڑے اورا س کی عدت گزرے اس وقت تك پہلی حرام ہے،اس صورت میں دونوں عورتوں سے اس کے بعد جو اولاد ہوگی اگرچہ اسی کی ٹھہرے گی ولدالزنا نہ ہوگی مگر ولدالحرام ہوگی،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٦٩: ٣ ذی القعدہ ١٣٣٨ھ
زید کے والد نے زید کی زوجہ سے زنا بالجبر کیا،عورت نے زید سے کہہ دیا،اس پر زید نے اپنی عورت کو طلاق دے دی جس کو عرصہ تین ماہ کا ہوگیا اس کے بعد زید سے عورت نے کہا کہ تم نے مجھ پر تہمت رکھا تھا،اس لیے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع