30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ای اظہار العزم من الزوج علی ترك وطئھا لامجرد العزم لومدخولہ [1]۔ |
ہے صرف وطی کے ترك کا عزم کافی نہیں ہے۔(ت) |
یہاں تك کہ زید نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ اب یہ میری عورت غیر مدخولہ میرے اوپر حرام ہے جس کواس کا دل چاہے دے دے بالاتفاق متارکہ ہوگیا اور نکاح فسخ ہوگیا قضاء قاضی کی کچھ حاجت نہیں۔نہ غیر مدخولہ کو عدت کی حاجت،اس وقت جس سے چاہے نکاح کرلے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٥٨: از قصبہ ایرانواں محلہ سادات ضلع فتحپور مرسلہ محمد رفیع صاحب ٢٨ صفر ١٣٣٨ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی فقیرے نے مسماۃ ببیا کا(جبکہ ا س کی گود میں مسماۃ حفیظن اس کی لڑکی دودھ پیتی تھی)اندر ایام رضاعت کے دودھ پیا،اسی مسماۃ ببیا کے دوسری لڑکی مسماۃ فہیمن پیدا ہوئی،اب فقیرے مذکور کا نکاح مسماۃ فہیمن کے ساتھ کیا گیا یہ نکاح شرعا جائز ہے یا ناجائز؟ اگر ناجائز ہے تو مسماۃ فہیمن کسی دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے یا نہیں؟ اور فہیمن کو فقیرے سے طلاق حاصل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب:
ببیا کی اگلی پچھلی سب لڑکیاں فقیرے کی حقیقی بہنیں ہیں اور ان میں کسی سے اس کا نکاح نہیں ہوسکتا حرام محض ہے،اس پرفرض ہے فہیمن کو فورًاچھوڑ دے اور وہ نہ چھوڑدے تو فہیمن پر فرض ہے کہ فورًا اس فاسد نکاح کو فسخ کردے اور عدت کے بعد جس سے چاہے نکاح کرلے،درمختار میں ہے:
|
یثبت لکل واحد منھما فسخہ ولوبغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولافی الاصح خروجا عن المعصیۃ فلاینافی وجوبہ [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مرد وعورت ہر ایك کوفسخ کا حق حاصل ہے خواہ دوسرے کی موجودگی ہو یا نہ ہو،دخول کیا ہو یا نہ،اصح قول میں،تاکہ گناہ کو ختم کیا جاسکے،اور یہ بات قاضی پر وجوب تفریق کے منافی نہیں ہے(ت)والله تعالٰی اعلم |
مسئلہ ٢٥٩: از موضع خورد مؤ ڈاك خانہ بدوسرائے ضلع بارہ بنکی
مرسلہ صفدر علی صاحب ٦ ربیع الاول شریف ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد فوت ہونے بیوی کے،بیوی کی خالہ
وعمہ سے نکاح جائز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع