30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
صورت مسطورہ اگر واقعی ہے تو اصلًا نہ کسی قضا کی حاجت نہ تفریق کی ضرورت،نہ مسخر درکار نہ قضا علی الغائب،عورت کو اختیار ہے کہ فی الحال جہاں چاہے اپنا نکاح کرسکتی ہے،یہ دو حال سے خالی نہیں۔یہ حرمت مصاہرت یا تو نکاح دختر سے پہلے ہوئی یا بعد،اگر پہلے ہوئی تونکاح سرے سے فاسد ومردود واقع ہوا،عورت بذات خود اسے فسخ کرسکتی ہے اگر چہ شوہر کی غیبت میں کہ وہ معصیت ہے اور اعدام معصیت سب پر واجب،کما حققنا ہ فیما علی ردالمحتار علقناہ(جیسا کہ ردالمحتار کے حاشیہ میں ہم نے اس کی تحقیق کی ہے۔ت)درمختار میں ہے:
|
(و)یثبت لکل واحد منھما فسخہ ولو بغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولا فی الاصح خروجا من المعصیۃ فلاینافی وجوبہ[1]۔ |
اور دونوں مرد اور عورت کے لیے اس نکاح کو ایك دوسرے کی موجودگی کے بغیربھی فسخ کرنا جائزہے دخول کیاہو یا نہ کیا ہو اصح قول میں تاکہ گناہ کو ختم کیا جاسکے،اور یہ بات قاضی پر تفریق کے وجوب کے منافی نہیں ہے۔(ت) |
اور اگر وہ حرمت مصاہرت بعد نکاح واقع ہوئی تو نکاح فاسد ہوگیا مگر بلا متارکہ فسخ نہ ہوگاا ور عورت کو دوسری جگہ نکاح کا اختیار نہ ہوگا اور یہ متارکہ صرف شوہر ہی کرسکتا ہے کما بینا وبہ وفقنا علی ابن عابدین علقنا(جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں اور ردالمحتار کے حاشیہ میں ہمیں اس کی توفیق دی گئی۔ت)درمختار میں ہے:
|
بحرمۃ المصاہرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لھا التزوج باٰخرا لابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ والوطی بھالایکون زنا[2]۔ |
حرمت مصاہرت سے نکاح ختم نہیں ہوتا اس لیے عورت کو دوسرے شخص سے نکاح اس وقت تك جائز نہیں جب تك متارکہ کے بعد عدت نہ گزر جائے،اس دوران خاوند کی اس سے وطی کو زنا کاحکم نہ دیا جائیگا۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
مبدؤھا(ای العدۃ)فی النکاح الفاسد بعد التفریق من القاضی بینھما اوالمتارکۃ |
عدت کی ابتداء متارکہ یا قاضی کی تفریق کے بعد ہوگی، متارکہ سے مراد خاوند کا مدخولہ بیوی سے علیحدگی کا اعلان |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع