30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
حرام حرام حرام،وہ صرف اس کے بھائی کی پوتی نہیں جو اس کے بیٹے کو حلال ہوخود اس کی نواسی بھی ہے تو اس کے بیٹے کی بھانجی ہے اگرچہ بیٹا اور زوجہ سے ہے اور وہ بیٹی اور سے تھی بہرحال بھانجی ہے اور بھانجی حرام،قال الله تعالٰی: وبنت الاخت (اور تمھاری بھانجیاں حرام ہیں۔ت)والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٥٦: از شہر آگرہ کلو گلی نائی منڈی مرسلہ رحیم بخش صاحب مالك کارخانہ رحیم شو فیکٹری ١٦ صفر ١٣٣٨ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید جو پابند مذہب اہل سنت وجماعت تھا اس نے اپنا عقد نکاح مسماۃ ہندہ کے ساتھ کیا جو مذہب اہل شیعہ رکھتی تھی،زید نے اپنے بیٹے عمرو کانکاح جو بطن ہندہ سے پیدا ہوا تھا بحالت نابالغی بکر کی لڑکی حلیمہ نابالغہ کے ساتھ کردیا اور بوجہ نابالغی منکوحہ حلیمہ کی وداع نہیں ہوئی،حلیمہ نجیب الطرفین اہلسنت والجماعت ہے،زید بقضائے الہٰی فوت ہوگیا،زید کی بیوہ ہندہ نیز اس کی تمام اولاد ہر طریقہ سے پابند اہل تشیع ہے،عمرو اب بالغ ہوکر چاہتا ہے کہ اپنی زوجہ کو رخصت کراکے لے جائے،حلیمہ بھی اب چونکہ بالغہ ہے وہ اپنے عقدمیں غیر مذہب کے آدمی شیعہ کو منظور نہیں کرتی اور اس کے ساتھ جانا نہیں چاہتی نیز والدین حلیمہ بھی اب وداع سے انکاری ہیں،اندریں صورت یہ نکاح حلیمہ کا جو بحالت نابالغی ایك شیعہ کے ساتھ ہوا تھا ازروئے شرع شریف جائز رہا یا باطل؟ اور حلیمہ اپنا عقد کسی دوسری جگہ کرسکتی ہے یا نہیں؟ بینواتو جروا
الجواب:
آج کل جو لوگ شیعہ کہلاتے ہیں یعنی تبرائی رافضی،ان کے ساتھ نکاح باطل محض ہے،اگر حلیمہ اور اس کے اولیا سب راضی ہیں تو الله ورسول راضی نہیں،حلیمہ کو حرام ہے کہ اپنے آپ کو اس کی زوجیت میں سمجھے،فتاوٰی ظہیریہ و حدیقہ ندیہ و عالمگیریہ میں مثال روافض کے لیے ہے احکامھم احکام المرتدین [1](ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔ت)نیز عالمگیری میں ہے:
|
لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مرتد کا مرتدہ،مسلمہ اور اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں،اور یوں ہی مرتدہ کو بھی کسی سے نکاح جائز نہیں۔(ت) والله تعالٰی اعلم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع