دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 11 | فتاوی رضویہ جلد ۱۱

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۱

اندر مکان کے نہیں جاتا۔کہتا ہے کہ جب تك نکاح نہ ہوگا اندر نہ جاؤں گا او رعورت کی دایہ وغیرہ سے جانچ کرایا گیا کہ حمل تو نہیں ہے،معلوم ہو اکہ حمل نہیں ہے،اس صورت میں اگر نکاح کردیا جائے تو گناہ تو نہیں ہوسکتا؟ جلدی اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ شیطان ہر وقت بہکاتا ہے،اگر اس صورت میں جلد نکاح کردیا جائے اس پر کیا حکم ہے؟ صرف گناہ کا خیال کرکے ایسا ہو کہ عدت کے اندر نکاح کردیا جاوے حمل نہیں ہے۔بینوا تو جروا۔

الجواب:

عدت کے نکاح حرام حرام حرام،نکاح تو نکاح،نکاح کا پیام دینا حرام،اگر نکاح ہو اور قربت ہو نرازنا ہوگا۔اس سے زیادہ یہاں شیطان کا بہکانا اور کیا ہے جسے خود چاہ رہے ہو،عورت کو ایام عدت شوہر ہی کے مکان پر پورے کرنے فرض ہیں وہاں سے نکلنا حرام ہے،اب کہ نکل آئی ہے فرض ہے کہ فورًا شوہر کے یہاں چلی جائے اور وہیں عدت کے دن پورے کرے،اگر یہاں سے وہاں تك تین دن کی راہ نہ ہو،ورنہ اطمینان کی جگہ رہے،اس شخص کے یہاں جب تك ہر گز نہ رہے جس سے اندیشہ ہے۔والله تعالٰی اعلم۔

 مسئلہ ٢٥٤: از مقام ٹانڈہ چھنگا ڈاك خانہ درؤ تحصیل کچھار مرسلہ عبدالله صاحب منیب بنجارہ ١٠ ذی قعدہ ١٣٣٧ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ مریم وسکینہ ہمشیر حقیقی ہیں لیکن باپ دونوں کے جدا ہیں ایك خیاط دوسرا نداف۔اب مریم کی ایك دختر ہے جس کانام فاطمہ ہے اور فاطمہ کا نکاح زید کے ساتھ ہوگیا ہے،اب زید اپنی زوجہ کی حقیقی خالہ کو نکاح میں لاکر دونوں سے ہمبستر ہورہا ہے اس صورت میں الله ورسول کا کیا حکم ہے عزوجل وصلی الله تعالٰی علیہ وسلم کیا دونوں نکاح جائز ہیں؟ بینوا تو جروا

الجواب:

حرام حرام حرام قطعی حرام،اس پر فرض ہے کہ اپنی زوجہ کی خالہ کو چھوڑ دے اور جب تك ا س کی عدت گزرے زوجہ کوہاتھ لگانا بھی اس پر حرام ہے جب اس کی خالہ عدت سے نکل جائے اس وقت اسے اپنی زوجہ کے پاس جانا حلال ہوگا وھو تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ٢٥٥:            از سلطان پور ملك اودھ مرسلہ عبدالخالق صاحب عرائض نویس کچہری دیوانی ١٨ذی قعدہ ١٣٣٧ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی تین شادیا ں ہوئیں،زوجہ اول سے ایك لڑکی پید ا ہوئی اور اس کی شادی زید کے حقیقی بھتیجے کے ساتھ ہوئی اور اس سے ایك لڑکی پیدا ہوئی جو زید کی حقیقی نواسی ہوئی،اور زید کی تیسری شادی جوہوئی اس سے تین لڑکے ہیں اب زید اس ا پنے لڑکے یعنی نرینہ کی شادی اپنے حقیقی بھتیجے کی لڑکی کے ساتھ کرنا چاہتا ہے پس ایسی حالت میں جائز ہے یا نا جائز؟ بینوا تو جروا


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن