30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
سوتیلی ماں ماں نہیں،قال الله تعالٰی: اِنْ اُمَّہٰتُہُمْ اِلَّا الِّٰٓیۡٔۡ وَ لَدْنَہُمْ ؕ[1](تمھاری مائیں وہی ہیں جنھوں نے تمھیں جنم دیاہے۔ت)اس کی سگی بہن سے نکاح جائز ہے،قال تعالٰی: وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ[2] (محرمات کے علاوہ عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں۔ت)والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ٢٤٦: از رامپور مرسلہ فاروق حسن صاحب ایڈیٹر اخبار دبدبہ سکندری ١٦ جمادی الآخرہ ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ نادرۃالوقوع میں کہ زید اپنے بیٹے عمرو کی زوجہ ہندہ سے فعل حرام کا مرتکب ہوا،اب مابین عمرو وہندہ کے نکاح باقی ہے یا نہیں؟ اوراگر عورت خود اقرار کرے کہ زید جو میرے شوہر کا باپ ہے وہ مجھ سے بالجبر وطی کیاہے اور زید منکر ہے تو کیا حکم؟ اور اگرزید وہندہ دونوں اقرار کریں وقوع وطی کا جب کیا حکم؟ پھر اگر وقوع وطی کو شہادت سے ثابت کیا جاوے تو شاہدوں کی شہادت کی صورت کیسی ہونی چاہئے؟ بینو ا توجروا
الجواب:
اس فعل سے عورت اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے مگر نکاح زائل نہیں ہوتا۔نہ عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے جب تك شوہرمتارکہ نہ کرے،،مثلًا کہے میں نے تجھے چھوڑا،اور عدت گزرے اس کے بعد نکاح دوسرے سے کرسکے گی،درمختار میں ہے:
|
بحرمہ المصاہرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لہا التزوج باخرالابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ [3]۔ |
حرمت مصاہرۃ سے نکاح ختم نہیں ہوتا اسی لیے دوسرے شخص سے اس عورت کا نکاح اس وقت تك جائز نہیں جب تك متارکہ اور اس کی عدت پوری نہ ہوجائے۔(ت) |
عورت کا بیان کوئی چیز نہیں جب تك شوہر اس کی تصدیق نہ کرے۔درمختار میں ہے:
|
لان الحرمۃ لیست الیھا قالو اوبہ یفتی فی جمیع الوجوہ بزازیہ [4]۔ |
کیونکہ حرمت کا فیصلہ عورت کے ہاتھ نہیں ہے اور فقہاء کرام نے فرمایا تمام صورتوں میں اسی پر فتوٰی ہے۔بزازیہ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع