30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد[1]۔ |
مرتد کو کسی مرتدہ عورت یا مسلمان یا اصلی کافرعورت سے نکاح کرنا جائزنہیں اور یوں ہی مرتدہ عورت کابھی کسی ایك سے نکاح جائزنہیں۔(ت) |
اس کے بعد صیغہ ونکاح کی بحث کی کچھ حاجت نہیں،سنیوں کے طورپر نکاح ہوتا تو کب ہوسکتا۔والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ٢٤٢: از میران پورکٹرہ تحصیل تلہر ضلع شاہجہان پور متصل چوکی مرسلہ قاضی تفضل حسین صاحب نائب ٢٤ ربیع الآخر ١٣٣٦ھ
حاملہ عورت کا نکاح جائزہے یا نہیں؟ نیزیہ بھی تحریر فرمائیے کہ بورے آدمیوں کے نکاحوں کا کیا حال ہے؟
الجواب:
عورت جسے حلال سے حمل ہو دوسرے شخص سے اس کا نکاح باطل محض ہے جب تك بچہ پیدا نہ ہولے۔اور اگر بے شوہر عورت اورحمل زنا کا ہے تو اس سے نکاح ہوسکتا ہے،پھر اگر وہ ہی نکاح کرے جس کایہ حمل ہے تو وہ پاس بھی جاسکتاہے اور اگر یہ دوسرا شخص نکاح کرے تو جب تك بچہ پیدا نہ ہولے ہاتھ نہیں لگا سکتا،کما فی الدرالمختار وغیرہ(جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ت)بَورہ نابالغ کے حکم میں ہے اس کا نکاح ولی کی اجازت سے ہوگا،والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ٢٤٣: زید نہایت بد چلن تھا اب وہ مفقود الخبر ہے اور زید کی عورت کو گزر اوقات کرنادشوار ہے اور زید کے باپ نے اس عورت کو نظر بدسے دیکھا اور زنا کیا اس صورت میں وہ عورت اپنا نکاح کرنا چاہتی ہے تاکہ اپنی گزر اوقات کرے اور اس حرام سے بچے،اس صورت میں شرع شریف کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
معاذالله اگر یہ زنا ثابت ہو اور اس کاثابت ہونا بہت دشوار ہے تو عورت اپنے شوہر پر ضرور ہمیشہ ہمیشہ حرام ہوگئی مگر نکاح سے نہ نکلی جب تك شوہر اپنی زبان سے اسے چھوڑنے کا کوئی لفظ نہ کہے۔درمختار میں ہے:
|
بحرمۃ المصاھرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لھا التزوج الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ والوطء بھا لایکون زنا[2]۔ |
حرمت مصاہرۃ سے نکاح ختم نہیں ہوتا اور عورت دوسرے کو اس وقت تك حلال نہ ہوگی جب تك متارکہ اور اس کی عدت پوری نہ ہوجائے،اس دوران وطی کو زنا نہیں قرار دیا جائے گا۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع