30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث فقہ سے حکم صادر فرمائیں،بھتیجی کی لڑکی سے اور بھانجی کی لڑکی سے اور بھتیجے کی بیٹی سے اور بھانجے کی لڑکی سے نکاح درست ہے اور بھتیجی وبھانجی سے تو حرام ہے مگر ان کی اولادآل سے جائز ہے یا حرام؟
الجواب:
حرام قطعی ہے،یہ سب اس کی بیٹیاں ہیں،جیسے بھتیجی بھانجی ویسے ہی ان کی اور بھتیجوں اور بھانجوں کی اولاد،اور اولاد اولاد کتنے ہی دور سلسلہ جائے سب حرام ہیں،بنات پوتیوں نواسیوں دور تك کے سلسلے سب کوشامل ہے۔جس طرح فرمایا گیا۔ حُرِّمَتْ عَلَیۡکُمْ اُمَّہٰتُکُمْ وَبَنَاتُکُمْ [1]تم پر حرام کی گئیں تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں،اور ماؤں میں دادی،نانی، پر دادی،پرنانی جتنی اوپرہوں سب داخل ہیں،اوربیٹیوں میں پوتی،نواسی،پرپوتی،پرنواسی جتنی ہوں نیچے سب داخل ہیں، یوں فرمایا: وَبَنَاتُ الۡاَخِ وَبَنَاتُ الۡاُخْتِ [2] تم پر حرام کی گئیں بھائی کی بیٹیاں اور بہن کی بیٹیاں۔ان میں بھی بھائی بہن کی پوتی، نواسی،پرپوتی،پر نواسی جتنی دورہوں سب داخل ہیں والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٤١: از ضلع بہڑائچ محلہ ناظرہ پورہ بمکان سید منصب علی صاحب عرضی نویس مرسلہ سید نصیر الدین صاحب ٢٤ ربیع الآخر ١٣٣٦ھ
زید،مذہب اہل سنت والجماعت نے ایك عورت شیعہ کے مطابق مذہب شیعہ صیغہ پڑھایا اور نکاح بطریق اہلسنت نہیں کیا اور مدۃ العمر دونوں اپنے اپنے مذہب پر قائم رہے،ایسی حالت میں جو اولاد ہوئی وہ جائز یا ناجائز؟ بینو ا تو جروا
الجواب:
آج کل تبرائی رافضی علی العموم مرتدین ہیں اور مرتدخواہ مرد خواہ عورت سے دنیابھر میں کسی کا نکاح نہیں ہوسکتا۔جو کچھ اولاد ہوگی ولد الحلال نہیں ہوسکتی،عالمگیر ی میں فتاوٰی ظہیریہ سے ہے:
|
یجب اکفار الروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا ان قال واحکامھم احکام المرتدین [3]۔ |
رافضیوں کے اس قول پر کہ"فوت شدہ لوگ دنیا میں پھر واپس آئیں گے"ان کی تکفیر واجب ہے اور یہاں تك کہ انھوں نے فرمایا کہ ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔ (ت) |
اسی میں مبسوط سے ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع