30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کذافی البحر [1]۔ |
فسخ کا فرق بعید ہے،بحرمیں ایسے ہی ہےـ۔(ت) |
اسی میں خیریہ سے ہے:
|
الحق عدم الفرق ولذا جزم بہ المقدسی فی شرح نظم الکنز [2]۔ |
حق یہی ہے کہ دونوں میں فرق نہیں ہے،اسی لیے مقدسی نے اس پر نظم الکنز کی شرح میں جزم کیا ہے۔(ت) |
بحرالرائق میں ہے:
|
رجحنا(فی باب المھر)الثانی انھا تکون من المرأۃ ایضا ولذا ذکر مسکین من صورھا ان تقول لہ ترکتك [3]۔ |
ہم نے باب المھر میں ثانی کو ترجیح دی ہے یہ کہ عورت کو بھی حق ہے۔اسی لیے مسکین نے اس کی صورت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ عورت کہہ سکتی ہے کہ میں نے تجھ سے علیحدگی کرلی ہے۔(ت) |
اسی مسئلہ کی تمام تحقیق ہمارے فتاوی میں ہے اور یہاں اس کی حاجت نہیں کہ عورت کے فسخ کو متارکہ کہیں یا نہیں،اسے فسخ کا اختیار بلاشبہہ بالاتفاق ہے دفعًا للمعصیۃ(گناہ کوختم کرنے کے لیے۔ت)والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ٢٣٨: از متن پوری محلہ زیر قلعہ راجہ مرسلہ سعد الله صاحب معمار ٢١ ربیع الآخر ١٣٣٢ھ
ہندہ بیوہ نے زید سے تعلق ناجائز پیدا کیا،اور سناہے کہ چند حمل بھی ساقط ہوئے اور ہندہ نے اپنی دختر کا کہ وہ بھی صغر سنی میں بیوہ ہوگئی تھی زید کے ساتھ جس سے خود تعلق ناجائز رکھتی تھی بلارضامندی دختر خود بجبر عقد کرلیا تو یہ نکاح درست ہوایا نہیں؟ اور اب اس لڑکی کا نکاح دوسری جگہ بلاطلاق ہوسکتاہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:
اگر صورت واقعہ یہ ہے یہ نکاح حرام محض ہے۔زیدپر فرض ہے کہ وہ اسے چھوڑ دے،زید کے چھوڑنے کے بعد عدت کے دن پورے کرکے جس سے چاہے نکاح کرلے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٣٩: از جے پور راجپوتانہ چاندپول بازار متصل دکان گوبند رام فوٹو گرافر مرسلہ حافظ رحیم بخش صاحب خرادی ٢٤ ربیع الآخر ١٣٣٦ھ
حرمت مصاہرت کے لیے عورت کا مشتہاۃ ہونا ضروری ہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع