30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ریاست اسلامی میں دو عورات ایك شخص سے یکے بعد دیگرے نکاح کرچکی ہیں اور بحکم شرعی وان تزوجھما علی التعاقب صح الاول وبطل الثانی(آپس میں دو محرم عورتوں سے اگریکے بعد دیگرے نکاح کیا تو پہلا صیح ہوا دوسرا باطل ہے۔ت)متارکہ یا تفریق ثانیہ کی ضرور ہے لیکن ناکح متارکہ نہیں کرتا۔تفریق لازمی ہے۔دریافت طلب یہ ہے کہ اب کیا کیا جائے؟ بینوا توجروا
الجواب:
اسلامی ریاست میں مسلمان حاکم کہ وہابی،رافضی،قادیانی،نیچری وامثالہم سے نہ ہو،نائب شرعی ہے،مگر یہاں نہ قاضی کی حاجت نہ متارکہ شوہر کی ضرورت کہ نکاح راسًا فاسد واقع ہوا،عورت تنہا اس کے فسخ کا اختیار رکھتی ہے،شوہر سے کہہ دے میں نے اس حرام کو چھوڑا،پھر اگر مجامعت نہ ہوئی تو ابھی،ورنہ بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے۔تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
|
یثبت لکل واحد منھما فسخہ ولوبغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولافی الاصح خروجا عن المعصیۃ فلاینافی وجوبہ بل یجب علی القاضی التفریق بینھما [1]۔ |
مرد وعورت دونوں کو فسخ کا حق ہے اگرچہ دونوں میں ایك غیر حاضر ہو۔دخول ہوچکا ہو یا نہیں،اصح قول یہی ہے،تاکہ گناہ سے علیحدگی ہوجائے تو یہ متارکہ قاضی کی تفریق کے وجوب کے منافی نہیں ہے۔بلکہ قاضی پر الگ کرنا ان دونوں کو واجب ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ فی الاصح وقیل بعد الدخول لیس لاحدھما فسخہ الابحضرۃ الاٰخر،قولہ یجب علی القاضی ای ان لم یتفرقا [2]۔ |
ا س کا قول"فی الاصح"او ربعض نے کہا کہ دخول کے بعد ایك کی تفریق دوسرے کی موجودگی کے بغیر جائز نہیں،ا ور اس کا قول کہ قاضی پر واجب ہے یعنی ا س وقت جب دونوں نے آپس میں تفریق نہ کی ہو۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
فسخ ھذہ النکاح من کل منھما بمحضر الاٰخر اتفاقا والفرق بین المتارکۃ والفسخ بعید |
اس نکاح کافسخ دونوں ایك دوسرے کی موجودگی میں کریں۔یہ متفقہ مسئلہ ہے اور یہاں متارکہ اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع