30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر کوئی شخص عدت میں نکاح پڑھادیا کرتا اورا سے حرام وزنا جانتا تو اتنا ہوتا کہ وہ سخت مرتکب کبائر اورزانی و زانیہ کا دلال ہوتا مگر وہ جواسے جائز بتاتا ہے اورقرآن عظیم میں تحریف کرکے"یتربصن"کو فقط منع جماع پر حمل کرتا ہے وہ ضرور منکر قرآن مجید ہے اورا س پر یقینا کفرلازم۔اس پر فرض ہے کہ توبہ کرے اور اپنے اس قول ناپاك کو جھٹلائے اور نئے سرے سے اسلام لائے۔اس کے بعد اپنی عورت سے نکاح کرے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٣٦: از سلون شریف ضلع رائے پور بریلی احاطہ شاہ صاحب مرسلہ مولوی محمد عمر صاحب مدرسہ اسلامیہ ٢٢ محرم الحرام ١٣٢٨ھ
جناب مولانا صاحب مجدد مائۃ حاضرہ السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ،زن فاحشہ رنڈی سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو بعد توبہ یا بغیر توبہ بھی؟ اگر بعد توبہ بھی جائز ہے تو توبہ کی قید کیوں ہے؟ کتابیہ سے تو بلاکراہت جائز ہو اوراس سے بلاتوبہ جائز نہ ہو۔عقل سلیم خلاف حکم کرتی ہے۔اوراگر ناجائزہے تو کیوں؟ والسلام ! بینوا تو جروا
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ،زن فاحشہ سے نکاح جائز ہے اگرچہ تائب نہ ہوئی ہو،ہاں اگر اپنے افعال خبیثہ پر قائم رہے،اور یہ تاقدر قدرت انسداد نہ کرے تو دیوث ہے اورسخت کبیرہ کا مرتکب،مگر یہ حکم اس کی اس بے غیرتی پرہے، نفس نکاح پر اس سے اثر نہیں،حق سبحانہ وتعالٰی نے محرمات گناکر فرمایا: وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ[1](اور تمھارے لیے محرمات کے ماسوا حلال کی گئیں ہے۔ت) رہی آیہ کریمہ:
|
وَّ الزَّانِیَۃُ لَا یَنۡکِحُہَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۳﴾[2]۔ |
زانیہ سے صرف زانی مردیا مشرك نکاح کرے اور یہ مومنین کے لیے حرام ہے۔(ت) |
اس میں چار تاویلیں ماثور ہیں۔ان میں سے اول کی دو فقیر کے نزدیك اصح واحسن ہیں۔
تاویل اول: نکاح سے عقد ہی مراد ہے۔پہلے زانیہ سے نکاح حرام تھا یہ حکم منسوخ ہوگیا،یہ قول سیدنا سعید بن مسیب رضی الله تعالٰی عنہما کاہے اور بغوی نے اسے ایك جماعت کی طرف منسوب کیا۔امام شافعی رضی الله تعالٰی عنہ نے اس کی تصحیح کی،کتاب الام میں فرماتے ہیں:
|
اختلف اھل التفسیر فی ھذہ الاٰیۃ اختلافا |
اہل تفسیر نے اس آیہ کریمہ میں واضح اختلاف کیا ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع