30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوتیلی بہو کے ساتھ فعل کرتا رہا،اب یہ نہیں معلوم کہ حمل بیٹے کا ہے یا باپ کا،البتہ قرین قیاس یہ ہے کہ سوتیلے بیٹے کا یعنی اس کے شوہر کا ہے کیونکہ اس کے شوہر کومرے ہوئے بھی عرصہ چار ماہ کا گزرا ہے،آیا بعد وضع حمل کے نکاح ہونا یعنی سوتیلے بیٹے کی بیوہ بیوی سے خسر سوتیلے کا جائز ہے یا ناجائز؟ والسلام،دوسرے مسئلہ کا اصل قصہ مختصر یہ ہے کہ سوتیلے بیٹے کی بیوہ بیوی کو سوتیلا خسر اپنے نکاح میں لاسکتا ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:
(١)ساس پر داماد مطلقا حرام ہے اگرچہ اس کی بیٹی کی رخصت نہ ہوئی ہو اور قبل رخصت مرگئی ہو،قال الله تعالٰی: وَاُمَّہٰتُ نِسَآئِکُمْ [1] (اور تمھاری بیویوں کی مائیں تم پر حرام ہیں) یہ نکاح حرام محض ہوا،وہ بچہ ولدالحرام ہوا،ان دونوں پر کہ حقیقۃً ماں بیٹے ہیں فرض ہے کہ فورا جد اہوجائیں۔والله تعالی اعلم۔
(٢)جبکہ یہ بھی احتمال ہے کہ اس بیوہ کا یہ حمل اپنے شوہر کا ہو،تو جب تك وضع حمل نہ ہو اس سے نکاح قطعی حرام ہے، بعدوضع حمل نکاح کرسکتا ہے لقولہ تعالٰی: وَحَلٰٓئِلُ اَبْنَآئِکُمُ الَّذِیۡنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ ۙ [2](اور تمھارے نسبی بیٹوں کی بیویاں حرام ہیں،ت)مع قولہ تعالٰی: وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ [3](الله تعالٰی کے اس قول کے پیش نظر: اور تمھارے لیے ان کے ماسوا حلال کی گئیں ہے۔ت)والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٣٤: مسئولہ مولوی محمد امانت الرسول صاحب از رام پور محلہ پیلاتالاب
سوتیلی ماں کو اگر باپ تین طلاقیں دے دے لڑکا اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟ مدلل تحریرہو،والسلام۔ بینوا توجروا
الجواب:
اﷲ لاالہ الااﷲ،سوتیلی ماں حقیقی ماں کے برابر حرام قطعی ہے۔الله عزوجل نے قرآن عظیم میں ماں کی حرمت سے پہلے سوتیلی ماں کی حرمت بیان فرمائی ہے،اذ قال اﷲ تعالٰی(جبکہ الله تعالٰی نے فرمایا۔ت):
|
وَلَا تَنۡکِحُوۡا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمۡ الی قولہ تعالٰی اِنَّہٗ کَانَ فٰحِشَۃً وَّمَقْتًا ؕ وَسَآءَ سَبِیۡلًا ﴿۲۲[4]۔ |
نہ نکاح کرو ان عورتوں سے جن سے تمھارے باپ نکاح کرچکے، بیشك وہ بے حیائی اور خدا کو دشمن اور نہایت بری راہ ہے۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم |
مسئلہ ٢٣٥: ازشہر مسئولہ مولوی حافظ امیر الله صاحب ١٤ ذی القعدہ ١٣٢٦ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص عدت میں نکاح پڑھوادیتاہے اور"یتربصن"کو صرف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع