30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی سوتیلی خالہ ہو تو ماں کی سوتیلی بہن یقینا سوتیلی خالہ ہے بلکہ وہی اطلاقًا اکثر اور فہمًااظہر توبعض عمائد غیرمقلدین سے تحلیل حرام وتضلیل عوام کے دونوں الزام مدفوع نہیں ہوسکتے،والله تعالٰی اعلم۔
(۲)سالی سے زنا عورت کو حرام نہیں کرتا،ساس کو بشہوت ہاتھ لگانے ہی سے عورت ہمیشہ کو حرام ہو جاتی ہے کہ کسی طرح اس کے لیے حلا ل نہیں ہو سکتی مگر نکاح نہیں جاتا بلکہ متارکہ ضرور ہے مثلا عورت سے کہہ دے میں نے تجھے چھوڑا یا ترك کردیا،متارکہ کے بعد عدت واجب ہو گی جبکہ عورت سے خلوت کر چکا ہو۔والله تعالی اعلم
(۳)دو عورتیں کہ ان میں جس کو مرد فرض کریں دوسری اس پر ہمیشہ حرام ہو ایك شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہوسکتیں خواہ ایك وقت میں خواہ مختلف اوقات میں۔جیسے ماں بیٹی کہ بعد فرض ماں بیٹا یا باپ بیٹی ہوں گی اور اگر ایك کو مرد فرض کئے سے دوسری اس پر حرام ابدی ہو مگر دوسری کو مرد ٹھہرانے سے وہ پہلی حرام نہ ہو تو ایسی دو عورتوں کو نکاح میں جمع کرسکتے ہیں جیسے ساس بہو کہ ساس مرد ہو تو وہ خسر اور بہو ہیں،بہو خسر پر ہمیشہ حرام ہے اور اگر بہو مرد ہو تو اب ساس سے کوئی رشتہ نہیں وہ اس کے لیے حلال ہوگی۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٣٢تا ٢٣٣: از تحصیل ستار گنج ڈاك خانہ خاص ضلع نینی تال مرسلہ الہٰی بخش صاحب کاریگر
ہادی دین شرع متین جناب مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب دام مجدہم،بعد سلام دست بستہ کے التماس ہے آپ کی ذات مجمع کمالات ہم عاصیوں کے لیے باعث افتخار ہے اور ہر مشکل مسئلہ میں آپ سے عقدہ کشائی ہوکر کار ثواب میں داخل ہوکر کارنیك کے پابند ہوسکتے ہیں۔
(١)ایك عورت بیوہ نے اپنی لڑکی نابالغ کو لڑکے کی زوجیت میں دیا،بعد تھوڑی مدت میں وہ لڑکی نابالغ مرگئی،بعد تھوڑی مدت کے اس عورت نے جو بیوہ پہلے سے تھی اب اس نے اپنے داماد سے نکاح کرلیا ہے اوراس نکاح سے اب ایك بچہ موجود ہے،آیا یہ نکاح درست ہے یا حرام ہے؟
(٢)ایك شخص نے ایك عورت بیوہ سے نکاح کرلیا،اس عورت بیوہ کا جو پہلا خاوند تھا اس سے ایك لڑکاتھا جواب عورت کے دوسرے نکاح کرنے پر ہمراہ آیاتھا وہ لڑکا جوان ہوکر مرگیا اور اس کی ماں بھی مرگئی،اب اس جوان لڑکے کی بیوی بیوہ ہے اوراب اس لڑکے کا باپ یعنی اب سوتیلا ہے اور یہ سوتیلا باپ اس سوتیلے لڑکے کی بیوہ بیوی کو یعنی اب اپنی سوتیلی بہو کو یعنی اب سوتیلے بیٹے کی بیوی بیوہ کو نکاح میں لایا چاہتا ہے اور حرام بھی کیاہے اور اسی وجہ سے وہ بیوہ بہو حاملہ ہے اور اس کا حمل قریبًا چار ماہ کا ہے اوراسی قدر عرصہ اس کے خاوند کو مرے ہوئے گزرا،اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بعدمرنے اپنے سوتیلے بیٹے کے وہ شخص اپنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع