30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مثلھا کما نصوا علیہ آرے اگروقت نکاح ا ز کفربری بود تاآنکہ نکاح صحیح شدہ وحالا ارتکاب او کند تاازحبالہ نکاح بدرآید ایں حیلت ومکیدہ فاسدہ اش ہم بروئے زن زنند وحکم ببقائے نکاح ووجوب تسلیم نفس کنند کما ھوالمختار الان للفتوی علی ما حققنا ہ فی فتاوٰنا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اور مرتد والاحکم رکھتے ہیں اور مرتدہ سے کسی مسلمان، اصلی کافر یا اس جیسے مرتد کو نکاح جائز نہیں،جیساکہ فقہاء کرام نے اس پر تصریح کی ہے،ہاں اگر نکاح کے وقت کفر سے بری تھی تو نکاح صحیح ہوا مگر اس کے بعد اب وہ عقائد کفریہ کا اظہار بطور حیلہ ومکر اس لیے کرتی تاکہ نکاح سے خلاصی حاصل کرے تواس حیلہ ومکرو فریب کو اس کے منہ پر دے ماراجا ئے اور نکاح کاحکم باقی رکھا جائے اور اس کو خاوند کے سپردکرنا ضروری ہے جیساکہ آج کل فتوی میں مختار ہے جس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں کردی ہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ٢٢٩تا ٢٣١: مسئولہ جناب مولوی بشیر احمد صاحب علی گڑھی مدرس اول مدرسہ منظر اسلام بریلی ١٩ ذی الحجہ ١٣٢٤ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(١)سوتیلی خالہ سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟
(٢)کوئی شخص اگر ساس سے آشنائی اور صحبت کرے تو عورت اس کے نکاح سے باہر ہوجاتی ہے اور اس کی عدت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
(٣)ایسی دو عورتوں کاایك وقت میں نکاح میں لانا کہ اگر ایك کو مرد اور ایك کو عورت قرار دیا جائے تو صورت محرمات میں آجائیں تو درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
(١)خالہ سگی ہو یا سوتیلی،مثل ماں کے حرام قطعی ہے،قال الله تعالٰی: وَخٰلٰتُکُمْ (اور تمھاری خالائیں۔ت)درمختارمیں ہے:الاشقاء وغیرھن[1] (سوتیلی وغیرہ۔ت) ہاں منکوحہ پدر کہ اس کی ماں نہیں تو اس کی سگی بہن بھی حلال ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو،قال تعالٰی: وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ[2] (تمھارے لیے ان محرمات کے ماسوا حلال کی گئی ہیں۔ت) مگر وہ ا س کی خالہ نہیں کہ جس کی بہن ہے وہ اس کی ماں نہیں ہے مجازًا اور ادعائے مجاز بے قرینہ مدفوع ونا مسموع۔ اور بفرض غلط اگرسوتیلی ماں کی بہن،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع