30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے یا نہیں؟ بادلیل عنایت ہو،بینوا توجروا
الجواب:
حرام قطعی ہے وہ خود اسی کی بیٹی ہے،
|
قال اﷲ تعالٰی وَبَنَاتُ الۡاُخْتِ [1] وھن یشملن بناتھا من بطنھا ومن ابنھا ومن بنتھا وان سفلن۔واﷲ تعالٰی اعلم |
الله تعالٰی نے فرمایا: اور بھانجیاں جبکہ یہ لفظ بھانجی کی بیٹیوں،پوتیوں اور نواسیوں کو نیچے تك شامل ہے۔(ت) والله تعالٰی اعلم |
مسئلہ ٢٢٨:
|
چہ مے فرمایند علمائے دین وحامی شرع متین دریں مسئلہ کہ اگر مردے از طریق اہل سنت وجماعت وزنے از طریق اہل شیعہ وباہم مرد وزن صیغہ نکاح مروجہ بطریق اہل سنت وجماعت خواندہ باشد و ہنوز خلوت صحیحہ بلکہ رسم رخصت مروجہ ہندوستان نہ شدہ باشد وحالا باہم رضامندی نہ،چہ حکم دارد،آیا نکاح صحیح ست یا نہ؟ بینوا توجروا |
علمائے دین وحامی شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ مرد اہل سنت وجماعت ہو اور عورت اہل شیعہ میں سے،ان دونوں کا نکاح اہل سنت و جماعت کے طریقہ پر ہوا،اور ابھی خلوت صحیحہ بلکہ رخصتی نہ بھی ہوئی،جیسا کہ ہندوستا ن کا طریقہ ہے،جبکہ ابھی رضامندبھی نہ ہوں،توایسا نکاح صحیح ہے یا نہیں؟ بیان کرو اجر پاؤ۔(ت) |
الجواب:
|
آں زن اگر بسلامت قلب خود از عقائد مکفرہ بری ست نکاح صحیح شد وبعد نکاح عدم رضائے اعتبارے نے وحکما سپرد شوہر کردہ شود اگر در رنگ عامہ روافض زمانہ عقیدہ مکفرہ دارد،نکاح باوباطل محض ست نہ سنی رارسد نہ رافضی نہ یہودی نہ مجوسی ہیچ کس را لان المکفر من اھل الھوی کالمرتد حکمہ والمرتدۃ لاینکحھا مسلم ولاکافر اصلی ولامرتد |
اگر وہ عورت خود دل سے عقائد کفریہ سے توبہ کرچکی ہے اور بری ہوچکی ہے تو نکاح صحیح ہے،اور نکاح کے بعدعدم رضامندی کا کوئی اعتبارنہیں،ایسی عورت کو حکما شوہر کے سپرد کیا جائے گا،ا ور اگر وہ عورت موجودہ عام روافض جیسے کفریہ عقیدے رکھتی ہو تو اس سے نکاح باطل محض ہے،سنی رافضی اور مجوسی کسی کے لیے بھی وہ حلال نہیں کیونکہ اہل ہوی میں سے جن کو کافر قرار دیا گیا ہو وہ مرتد کی طرح ہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع