30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٢٢٢: از پورن پور ضلع پیلی بھیت ١٤ صفر ١٣٢٣ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں،زید اپنی عورت چھوڑکر مرگیا،عورت بیوہ اندر ایام عدت کے عمرو سے مرتکب زنا کی ہوئی حاملہ،حمل زنا کا قرار پاگیا،عدت کے ایام اب گزرگئے،عمرو مستدعی نکاح کا اسی عورت سے ہے،اب نکاح جائز ہے اور وطی کرنا قبل استبرا کے بھی جائز ہے یا نہیں؟ اور کفارہ ذمہ زانی وزانیہ کے عائد ہوتا ہے یا نہیں؟ جواب سے مشرف فرماکر داخل اجرو حسنات ہوں۔بینوا تو جروا۔
الجواب:
جبکہ وفات شوہر کی عدت گزرگئی تو اب عورت کو نکاح جائزہوگیاا ور وضع حمل کا انتظار زانی خواہ غیر زانی کسی کو ضرور نہیں کہ حمل جو اثنائے عدت وفات میں حادث ہو اس سے عدت موت کہ چار مہینے دس دن ہے نہیں بدلتی،ردالمحتار میں ہے:
|
فی النھران المعتدۃ لو حملت فی عدتھا ذکر الکرخی ان عدتھا وضع الحمل ولم یفصل و الذی ذکرہ محمد ان ھذا فی عدۃ الطلاق امافی عدۃ الوفاۃ فلاتتغیر بالحمل وھو الصحیح کذافی البدائع [1]۔ |
نہر میں ہے کہ اگر عدت کے دوران معتدہ کو حمل ہوجائے تو کرخی نے کہا کہ اس کی عدت وضع حمل یعنی بچے کی پیدائش تك ہوگی،اس کی تفصیل بیان نہ کی کہ کون سی عدت میں یہ حکم ہے،اورا مام محمد رحمہ الله تعالٰی نے جو ذکر فرمایا وہ یہ ہے کہ مذکور ہ حکم طلاق کی عدت کاہے لیکن عدت وفات ہو تو اس کا حکم تبدیل نہیں ہوگا،یہی صحیح ہے جسا کہ بدائع میں ہے۔(ت) |
فرق اتنا ہے کہ خود عمرو جس کے زنا سے یہ حمل رہا ہے وہ اب اگر نکاح کرے تو اسے فی الحال وطی جائز اور دوسرے شخص سے نکاح صحیح ہے مگر اسے تا وضع حمل زنا عورت کو ہاتھ لگانا ناجائز ہوگا۔درمختار میں ہے:
|
صح نکاح حبلی من زناوان حرم وطؤھا ودواعیہ حتی تضع لونکحھا الزانی حل لہ وطؤھا اتفاقا [2]۔ |
زنا سے حاملہ عورت سے نکاح جائز ہے اگر اس سے وطی اورا س کے دواعی بچے کی پیدائش تك حرام ہے لیکن اگر زانیہ حاملہ سے خود اس کا زانی نکاح کرے تو اس کو وطی بالاتفاق حلال ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع