30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آسکتی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
چھ مہینے بلکہ دوسال سے ایك دن کم کے بعد واپس آکر عورت کو حاملہ پانے سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ وہ حمل دوسرے کا ہے،اور بدگمانی قطعی حرام ہے،اورتحقیقات اگر بذریعہ شہود یعنی لوگوں نے گواہی دی کہ اس کی زوجہ نے داماد سے زنا کیا تو یہ قریب بہ ناممکن ہے،شہادت کے لیے عدالت درکار ہے،جو یہاں گویا عنقاہے،پھر ثبوت زنا کے لیے چار مرد عادل کامشاہدہ ضرور کہ انھوں نے اپنی آنکھ سے اس کا اندام اس کے بدن میں سرمہ دانی میں سلائی کی طرح دیکھا،یہ کہاں متصور! لوگ محض قرائن وقیاسات پر اڑادیتے ہیں،اس پر اعتبار نہیں اور وہ سب شرعًا اسی اسی کوڑے کے مستحق ہوتے ہیں۔
|
یَعِظُکُمُ اللہُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِمِثْلِہٖۤ اَبَدًا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿ۚ۱۷﴾ |
الله تعالٰی انھیں فاسق فرماتا ہے اور حکم دیتاہے کہ ایمان رکھتے ہو تو پھر ایسی بات زبان سے نہ نکالنا۔ |
تحقیقات کا تو یہ حال ہے یہ تو تہمت زنا رکھنے کا حکم تھا،ہاں ثبوت مصاہرت کے لیے دو گواہ بھی کافی ہیں،اگرچہ صرف مس بہ شہوت کی گواہی دیں،اور اگر کوئی گواہ نہ ہو تو عورت اور داماد اپنے حال سے خوب آگاہ ہیں اوران کا رب ان سے زیادہ ان کا حال جانتا ہے،اگر واقعی اس نے بشہوت اس عورت کے بدن کو صرف ہاتھ لگایا تو جب بھی اس کی منکوحہ ہمیشہ کے لیے اس پر حرام ہوگئی،وہ اس کی بیٹی ہوگئی اور ساس تواس کی ماں تھی،اب وہ دونوں ماں بیٹیاں اس پر ابدالآباد تك حرام ہیں۔کسی طرح کبھی ان سے نکاح نہیں ہوسکتا،اس پر فرض ہے کہ اپنی زوجہ کو چھوڑدے اور اس کا مہر ادا کردے،زوجہ زید بدستور نکاح میں ہے زنا کے سبب اس کے نکاح میں خلل نہ آیا۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢١٨: ١٢ جمادی الآخر ١٣٢١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے نکاح ثانی کیا،اس کے ایك لڑکی شوہر اول سے ہے،اب اس کا نکاح شوہر ثانی کے بھائی سے کرنا چاہتی ہے جواس لڑکی کا سوتیلا چچا ہے،یہ نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:
ماں کا شوہر ثانی نہ اپنا باپ ہے،نہ ا س کا بھائی اپنا چچا نہ سگا نہ سوتیلا،سوتیلا چچا وہ ہے کہ اپنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع