30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شوہر میری ہمشیرہ حقیقی بیوہ کے ساتھ اپنا عقد کرلیوے اور شوہر اس کا رضامند ہے جو کچھ کہ حکم شرع شریف میں سے ہو،آگہی بخشی جائے۔
الجواب:
جب زوجہ مرجائے یا اسے طلاق دے اورعدت گزرجائے تواس وقت زوجہ کی بہن سے نکاح جائزہوتا ہے بغیر اس کے حرام قطعی اور مثل زنا ہے،الله تعالٰی فرماتاہے وَ اَنۡ تَجْمَعُوۡا بَیۡنَ الۡاُخْتَیۡنِ[1](حرام ہے جمع کرنا دو بہنوں کو۔ت) رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
فلاتعرضن علیّ بناتکن ولااخواتکن [2]۔ |
اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو(اے میری ازواج !)مجھ پر مت پیش کرو۔(ت)والله تعالٰی اعلم |
مسئلہ ٢١٦: ١٧ ربیع الآخر شریف ١٣٢٠ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کانکاح سالی کی لڑکی سے بعد فوت بی بی کے درست ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:
زوجہ کا انتقال ہوتے ہی فورًا اس کی بھتیجی بھانجی سے نکاح جائز ہے،
|
لعدم الجمع نکاحا ولاعدۃ اذلاعدۃ علی الرجل کما حققہ فی العقود الدریۃ۔ |
بوجہ عدم اجتماع کے نکاح اور عدت میں کیونکر مردپر عدت نہیں ہوتی جیساکہ عقود الدریہ میں تحقیق فرمائی۔(ت) والله تعالٰی اعلم |
مسئلہ ٢١٧: مسئولہ ثناء الله صاحب متصل سرائے خام ٥جمادی الاولٰی ١٣٢٠ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی کانکاح کیا،بعد نکاح کے چھ مہینے کے واسطے سفرکو گیاداماد کو اور اپنی بیٹی کو مع لڑکی کے مکان پر چھوڑگیا،بعد واپس آنے سفر کے دیکھا کہ بیوی منکوحہ اپنی کو حاملہ پایا،بعد تحقیقات کے معلوم ہوا کہ حاملہ داماد سے ہوئی تھی،آیا لڑکی اس کی داماد کے نکاح سے علیحدہ ہوگئی یا نہیں؟ او رطلاق کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اور مہر اس لڑکی کا بذمہ داماد رہا یا نہیں؟ اور زوجہ اس کی بعد وضع حمل کے اس کی رہی یا نہیں؟ اور داماد کے نکاح میں اس کی زوجہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع