30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(٢)آج کل عام رافضی منکران ضروریات دین اور باجماع امت کفار مرتدین ہیں کما حققناہ فی فتاوٰنا وفی المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ والمکفرۃ(جیساکہ اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں اور اپنے رسالہ"المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ المکفرۃ"میں کردی ہے۔ت)علاوہ اور کفریات کے دو کفر تو ان کے عالم وجاہل مرد عورت سب کو شامل ہیں،مولٰی علی کرم الله وجہہ الکیرم کو انبیاء سابقین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم سے افضل ماننا،اور جوکسی غیر نبی کو کسی نبی سے افضل کہے کافر ہے،اور قرآن عظیم سے معاذالله صحابہ کرام وغیرہم اہلسنت کا چند پارے یا سورتیں آیتیں گھٹانا کچھ الفاظ تغیر و تبدیل کردینا اور جو قرآن عظیم کے ایك حرف ایك نقطے کی نسبت ایسا گما ن کرے کافر ہے،قال الله تعالٰی: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۹﴾[1](ہم نے ذکر نازل کیا اورہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ ت)ان کے مجتہد حال نے یہ عقائد باطلہ اور دیگر عقیدہ کفریہ صاف صاف لکھ کر اپنی مہر کردی ان میں جو کوئی خود ان عقائد کا معتقد نہ بھی ہو تو مجتہد کو کافر ہر گز نہ کہے گا بلکہ جناب قبلہ وکعبہ ہی مانے گا اور جو منکر ضروریات دین کو معظم دینی جانے یا کافر ہی نہ کہے خود کافر ہے،بزازیہ ودرمختار وغیرہما میں ہے: من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر [2](جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شك کیا وہ کافر ہے۔ت)لہذا جز م کیا جاتا ہے کہ آج کل رافضیوں میں کوئی مسلمان ملنا ایسا ہی مشکل ہے جیسا کوّوں میں سپید رنگ والا،ایسوں کے ساتھ مناکحت تو حرام قطعی وزنائے خالص ہے،جو اپنی بہن بیٹی ان کو دے دیوث ہے،اس عقد باطل کے ذریعہ سے جو نام اس کی بہن بیٹی کو ملنے والے ہیں ان میں ہلکے نام یہ ہیں: زانیہ،فاجر، قحبہ، فاحشہ،روسی،رنڈی،بدکار،جواسے پسند کرتا ہو اس کبیرہ فاحشہ پر اقدام کرے ورنہ الله عزوجل کے غضب سے ڈرے،اور اگر بالفرض کوئی رافضی ایسا ملے جسے مسلمان کہہ سکیں تو حضرات شیخین رضی الله تعالٰی عنہما پر صرف تبرا بھی فقہائے کرام کے نزدیك مطلقا کفر ہے،کما نص علیہ فی الخلاصۃ و الفتح والدر وغیرہا من الاسفار الغر(جیساکہ خلاصہ،فتح،در وغیرہا مشہور کتب میں اس پر تصریح ہے۔ت)تو فقہاء کے طور پر ہر تبرائی کے ساتھ مناکحت میں وہی احکام ہوں گے اور بغرض غلط اس سے بھی محفوظ ملے تو آخر گمراہ بددین ہونے میں شبہ نہیں اور ایسے کو بیٹی دینا شرعا گناہ وممنوع ہے۔
|
کما بیناہ فی رسالۃ مفردۃ فی ھذا الباب سمینا ھاازالۃ العاربحجر الکرائم عن کلاب النار۔ |
جیساکہ ہم نے اس کو علیحدہ ایك رسالہ میں بیان کیا ہے جو اس موضوع سے متعلق ہے جس کا نام ہم نے"ازالۃ العار بحجرالکرائم عن کلاب النار"رکھا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع