30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تاتارخانیہ [1]۔ |
عدم شہوت دونوں کا احتمال مساوی ہو۔تاتارخانیہ(ت) |
درمختار میں ہے:
|
والخلوۃ بالمحرم مباحۃ الاالاخت رضاعا والصھرۃ الشابۃ [2]۔ |
محرم عورتوں سے خلوت مباح ہے مگر رضاعی بہن اور جوان ساس سے جائز نہیں۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قال فی القنیۃ وفی استحسان القاضی الصدر الشہید وینبغی للاخ من الرضاع ان لایخلو باختہ من الرضاع لان الغالب ھنالك الوقوع فی الجماع،اھ، وافادالعلامۃ البیری ان ینبغی معناہ الوجوب ھنا ٣[3] اھ مافی ردالمحتار قلت فاذاکان الغالب ذلك فی الاخت رضاعا فماظنك فی التی کانت تحتہ زمانا وقد ذاق کل عسیلۃ صاحب،نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم |
قنیہ اور قاضی الصدر الشہید کے استحسان میں ہے کہ رضاعی بھائی کو رضاعی بہن کے ساتھ تخلیہ مناسب نہیں کیونکہ تخلیہ جماع کا موجب ہوتاہے،غالب یہی ہے۔اھ اور علامہ بیری نے مفید بات کی ہے کہ یہاں ینبغی کا معنی وجوب ہے،ردالمحتار کابیان ختم ہوا،قلت(میں کہتا ہوں کہ۔ت) جب رضاعی بہن کے متعلق غالب امریہ ہے تو اس عورت کے بارے میں کیا خیال ہے جومدت بھر اس کی بیوی رہی ہو اور یہ مرد عورت دونوں ایك دوسرے سے لطف اندوز ہوتے رہے ہوں،ہم الله تعالٰی سے معافی اور عافیت کی دعا کرتے ہیں۔والله تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ٢٠٤: از مارہرہ مطہرہ مدرسہ درگاہ معلی مرسلہ مولوی رحمت الله صاحب ز١٧ رجب المرجب ١٣١٧ھ
زید نے ہندہ کے ساتھ عرصہ پندرہ برس کا ہوا نکاح کیا،لڑکا بھی پیدا ہوا پھر زید چلاگیا اور اب تك اس کی خبر نہ لی،نہ نان نفقہ دیا،چند بار اس کو واسطے دینے طلاق کے تحریر کیا،جواب نہ دیا،اب ہندہ دوسرا عقد کرنا چاہتی ہے بخیال حالات کہ زمانہ نامعلوم کیا امر نا مناسب آئندہ پیش آئے،اس وقت بجز ندامت اہل دنیا و الزام شرع کچھ سود نہ ہوگا،پس یہ ازروئے شریعت جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع