30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٢٠٢: ازنواب گنج ضلع بریلی مکان تحصیلدار ظہور الاسلام صاحب مرسلہ حضرت سیدنور عالم میاں صاحب مارہروی ٥ رجب ١٣١٧ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع شریف اساطین فرقہ اہل سنت وجماعت متبعین ملت حنفیہ اس باب میں کہ ایك شخص نے اپنی بی بی کی زندگی میں اس کی خواہر حقیقی سے نکاح کیا اوربعد نکاح خواہر زن مگر قبل خلوت صحیحہ یااس سے خلوت صحیحہ کے بعد پہلی بی بی کو طلاق دے دی ان دونوں صورتوں میں یہ نکاح عندالشرع درست وجائز ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
جب ایك بہن نکاح میں ہو دوسری سے نکاح حرام قطعی ہے۔
|
قال اﷲ تعالٰی وَ اَنۡ تَجْمَعُوۡا بَیۡنَ الۡاُخْتَیۡنِ [1]۔ |
الله تعالٰی کا ارشاد ہے: حرام ہے دونو ں بہنوں کو جمع کرنا۔(ت) |
تو یہ نکاح ضرور حرام وناجائز ہوا اور پہلی زوجہ کو اس نکاح فاسد کے بعد پیش از خلوت خواہ بعد خلوت طلاق دے دینا اس حرام کو حلال اس فاسد کوصحیح اس ناجائز کو جائز نہیں کرسکتا۔علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اگر اولًا زوجہ کو طلاق دے اور ہنوز ا س کی عدت نہ گزری ہو کہ ا س کی بہن سے نکاح کرلے تو یہ نکاح حرام ہوگا تویہاں کہ پہلے ا س کی خواہر سے نکاح کرلیا بعد کو طلاق دی کیونکر حلال ہوسکتا ہے۔درمختارمیں ہے:
|
حرم الجمع بین المحارم نکاحا وعدۃ ولومن طلاق بائن ٢[2]۔ |
وہ عورتیں جو آپس میں محرم ہوں ان کو نکاح اور عدت خواہ طلاق بائن کی عدت ہو،میں جمع کرنا حرام ہے۔(ت) |
شخص مذکور پر فرض ہے کہ فورًا فورًا اس دوسری کو چھوڑدے پھر اگر پہلی کی عدت گزرچکی ہے توا سے اختیار ہوگا کہ اس دوسری کو چھوڑکر ابھی معًا اس سے نکاح کرلے ورنہ ااتنا انتظار فرض ہے کہ اس پہلی کی عدت گزرجائے اس کے بعد اس دوسری سے نکاح صحیح بروجہ شرعی کرے۔والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ٢٠٣: ٥ رجب ١٣١٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ معاذالله ساس سے زنا کے باعث جب منکوحہ حرام ہوجائے تو اس سے پردہ بھی فرض ہوجاتا ہے یا وہ مثل محارم کے ہوجاتی ہے کہ دیکھنا،چھونا،تنہا مکان میں رہنا جائز ہے۔بینوا توجروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع