30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جیسے کوّوں میں سپید رنگ کا
کوّا،ایسی عورت سے نکاح محض باطل ہے اور قربت صریح زنا،اور اولاد یقینا ولدالزنا،والله
تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٠١: از کلکتہ سند
ریاپٹی ١٠٩ متصل مسجد ناخدا دکان کتب شیخ فخرالدین مرسلہ نظیر حسن صاحب ٢٣ جمادی
الآخرہ ١٣١٧ھ
بعالی خدمت جناب مولانا مولوی احمد رضاخان صاحب دام افضالہ پس از سلام مسنون الاسلام آن کہ زید نے اپنی سگی یعنی حقیقی بہن کی لڑکی کی لڑکی سے بحکم ایك عالم عقد کیا یہ ازروئے شرع شریف کے عندالاحناف جائز ہے یا ناجائز ہے؟ مفصل تحریر فرمائیے۔بینو اتوجروا
الجواب:
عقد مذکور زنائے محض ہے حرام قطعی ہے سخت عظیم شدید گناہ کبیرہ ہے،نہ فقط حنفیہ بلکہ شافعیہ مالکیہ حنبلیہ تمام امت مرحومہ کے اجماع سے حرام ہے نص قرآن عظیم سے حرام ہے،قال اﷲ تعالٰی(الله تعالٰی نے فرمایا):
|
حرمت علیکم امھاتکم وبنتکم واخواتکم وعمٰتکم وخالتکم وبنت الاخ وبنت الاخت ١[1]۔ |
تم پر تمھاری مائیں،بیٹیاں، بہنیں،پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں،اور بھانجیاں حرام کی گئی ہیں۔(ت) |
اس آیہ کریمہ میں رب عزوجل نے بنات کا لفظ تین جگہ ارشاد فرمایا کہ حرام کی گئیں تم پر تمھاری بیٹیاں،بھائی کی بیٹیاں،بہن کی بیٹیاں،اگربنات یعنی بیٹیاں پوتی نواسی کوبھی شامل تو ضرور بھائی بہن کی پوتی،نواسی بھی اسی حکم میں داخل،اور اگر شامل نہیں تو خوداپنی پوتی نواسی بھی حکم آیت میں داخل نہیں تواس جاہل بیباك کے طورپر وہ حلال ٹھہرے گی،لقولہٖ تعالٰی: وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ [2](تمھارے لیے ان کے ماسوا حلال قرار دی گئی ہیں،ت) لاجرم کتب تفسیر میں اسی آیت کریمہ سے بھائی بہن کی پوتی نواسی کا حرام ابدی ہونا ثابت فرمایا اور کتب فقہ میں انھیں بھتیجی بھانجی میں داخل مان کر محارم ابدیہ میں گنایا،معالم التنزیل میں ہے:
|
یدخل فیھن بنات اولادالاخ والاخت وان سفلن [3]۔ |
ان محرمات ابدیہ میں بھائی اور بہن کی اولاد کی بیٹیاں خواہ نیچے تك ہوں،داخل ہیں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع