30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اہل انصاف ملاحظہ کریں کہ جواندیشے ائمہ کرام نے وہاں مرد اور اولاد کے لیے پیدا کئے وہ زائدہیں یا یہ جو یہاں عورت واولاد کے لیے ہیں،وہاں مرد کا معاملہ ہے یہاں عورت کا،وہ حاکم ہوتاہے یہ محکوم،وہ مستقل ہوتاہے یہ متلونہ،وہ موثر ہوتا ہے یہ متاثر،وہ عقل ودین میں کامل ہو تا ہے یہ ناقصہ،وہ اگر دارالحرب میں متوطن ہوگیا تو گنہ گارہوا دین نہ گیا یہ اگر اس کی صحبت میں مبتدعہ ہوگئی تو دین ہی رخصت ہوا،بچہ بعد شعور اپنے ماں باپ کی تربیت میں رہتاہے وہاں باپ مسلم ہے یہاں بدمذہب،وہاں کافروں کی عادتیں ہی سیکھنے کا احتمال ہے یہاں خود مذہب کے بد ل جانے کا قوی مظنہ،وہاں اگر غلام بنا تو ایك دنیوی ذلت ہے آخرت میں ہزاروں غلام کروڑوں آزادوں سے اعز واعلٰی ہوں گے یہاں اگر رافضی وہابی ہوگیا تو اخروی ذلت دینی فضیحت ہے۔وہاں غلامی ایك احتمال ہی احتمال تھی اور یہاں یہ بدانجامی مظنون قوی،تووہاں وہ اندیشے اگر کراہت تنزیہہ لاتے یہاں یہ ظنون کراہت تحریمیہ تك پہنچ جاتے،ہم اوپر گزارش کرچکے ہیں کہ شرعا جو چیز حرام ہے اس کے مقدمات ودواعی بھی حرام ہوتے ہیں اور جب کہ وہاں ان کے سبب کراہت تحریم مانیں تو یہاں ان کے باعث کھلی تحریم رکھی ہے،یہ تیسرا جوا ب ہے اس شبہہ کا کہ یہ ان سے بھی گئے گزرے،مع ہذا شرع مطہر میں اگرچہ وہ مبتدع جس کی بدعت حد کفر کو نہ پہنچی آخرت میں کفار سے ہلکا رہے گا ان کا عذاب ابدی ہے اور اس کا منقطع اور بعد موت دنیوی احکام میں بھی خفت ہوگی مگرا س کے جیتے جی ا س کے ساتھ برتاؤ کافر ذمی کے برتاؤ سے اشد ہے اور اس کی وجہ ذی عقل پر روشن،کافر ذمی سے ہرگز وہ اندیشہ نہیں جو اس دشمن دین مدعی اسلام وخیرخواہ مسلمین سے ہے وہ کھلا دشمن ہے اور یہ مار آستین،اس کی بات کسی جاہل سے جاہل کے دل پر نہ جمے گی کہ سب جانتے ہیں یہ مردود کافر ہے خدا ورسول کا صریح منکر ہے اور یہ جب قرآن وحدیث ہی کے حیلے سے بہکائے گا تو ضرور اسرع واظہر ہے والعیاذ بالله رب العالمین،امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں:
|
ان کانت البدعۃ بحیث یکفربھا فامرہ اشد من الذمی لانہ لایقر بجزیۃ ولایسامع بعقد ذمۃ وان کان مما لایکفربہ فامرہ بینہ و بین اﷲ اخف من امر الکافر لامحالۃ،۔ولکن الامرفی الانکار علیہ اشدمنہ علی الکافر لان شرالکافر غیر متعد |
وہ بدعت جو مسلمان کو کفر میں مبتلا کردے تو ایسا کافر بدعتی دارالاسلام میں ذمی کافر سے بدتر ہے کیونکہ وہ جزیہ کاپابند نہیں بنتا اور نہ ہی وہ عقد ذمہ کی پروا کرتاہے اوراگر بدعت ایسی ہو جس کی وجہ سے بدعتی کو کافر نہیں کہا جاسکتا تو ایسے بدعتی کا معاملہ کافر کی نسبت سے الله تعالٰی کے ہاں ضرور خفیف ہے لیکن اس کی تردید کا معاملہ کافر کے مقابلہ میں زیادہ اہم ہے کیونکہ کافر کاشر مسلمانوں کے لیے اتنا نقصان دہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع