30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یستطیع المسلم قلعہ عن تلك العادۃ [1]۔ |
ان کی عادات کو چھوڑنے پر قادر نہ ہوگا۔(ت) |
فتح الله المعین میں علامہ سید احمد حموی سے ہے:
|
عم مالوکانت حربیۃ ولکن مکروہ بالاجماع لانہ ربما یختار المقام فی دارالحرب ولانہ فیہ تعریض ولدہ للرق فربما تحبل وتسبی معہ فیصیر ولدہ رقیقا وان کان مسلما وربما یتخلق الولد باخلاق الکفار [2]۔ |
جواز نکاح کاحکم کتابیہ حربیہ کو بھی شامل ہے لیکن یہ مکروہ ہے بالاجماع،کیونکہ ہوسکتا ہے کہ بیوی کی وجہ سے دارالحرب میں قیام پسند کرلے،اور اس لیے بھی کہ اس میں بچے کوغلامی میں مبتلا کرنے کی سبیل ہوسکتی ہے کہ اس کی وہ حاملہ بیوی مسلمانوں کے ہاتھ قید ہوجائے تو بچہ بھی ماں کی وجہ سے قیدی ہوکر غلام بن جائے اگرچہ وہ مسلمان ہے نیز وہ بچہ دارالحرب میں کفار کی عادات کو اپنا سکتا ہے۔(ت) |
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں بعد عبارت مذکورہ فرمایا:
|
وتکرہ الکتابیۃ الحریبۃ اجماعا لانفتاح باب الفتنۃ من امکان التعلق المستدعی للمقام معہا فی دارالحرب وتعریض الولد علی التخلق باخلاق اھل الکفر وعلی الرق بان تسبی وھی حبلی فیولد رقیقا وان کان مسلما [3]۔ |
حربیہ کتابیہ بالاجماع مکروہ ہے کیونکہ اس سے فتنے کا دروازہ کھلنے کا اندیشہ ہے وہ یہ کہ بیوی سے تعلق مسلمان مرد کو دارالحرب میں رہنے پر آمادہ کرسکتا ہے اور بچے کو کفار کی عادات کا عادی بنانے کا راستہ ہے نیز بچے کی غلامی کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش ہے کیونکہ ہوسکتا ہے وہ بیوی حاملہ ہو کر مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوجائے تو بچہ بھی ماں کی وجہ سے غلام بنے اگرچہ وہ مسلمان ہوگا۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ والاولی ان لایفعل یفید کراھۃ التنزیہ فی غیر الحربیۃ وما بعدہ یفید کراھۃ التحریم فی الحربیۃ [4]۔ |
اس کے قول کہ"بہتر ہے نہ کرے"سے یہ فائدہ ملتا ہے کہ کتابیہ غیر حربیہ سے نکاح مکروہ تنزیہہ ہے جبکہ اس کا مابعد میں حربیہ کے بارے میں مکروہ تحریمہ ہونے کا فائدہ دیتا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع