30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عبارات درمختار وغیرہ تجوز منا کحۃ المعتزلۃ لانا لانکفر احدا من اھل القبلۃ وان وقع الزامالہم فی المباحث [1](معتزلہ سے نکاح جائز ہے ہم اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتے اگرچہ بحث کے طورپر ان پر کفر کاالزام ثابت ہے۔ت)کے یہی معنی ہیں، پر ظاہر کہ نکاح عقد ہے اور ابھی بحرالرائق وطحطاوی وردالمحتار سے گزرا کہ عقود میں غالب وشائع جواز بمعنی صحت ہے مگروہ عدم جواز بمعنی ممانعت واثم کے منافی نہیں،فتح القدیر وغنیہ و بحرالرائق وغیرہا میں ہے:
|
یراد بعدم الجواز عدم الحل ای عدم حل ان یفعل وھولاینافی الصحۃ [2]۔ |
عدم جواز سے عدم حل مراد لیا جاتا ہے یعنی اس کا کرنا حلال نہیں اور یہ صحیح کے منافی نہیں۔(ت) |
رہا جواز فعل بمعنی عدم ممانعت شرعیہ بد مذہبوں سے سنیہ عورت کا نکاح کردینا روا ومباح ہو جس میں کچھ گناہ ومخالفت احکام شرع نہ ہو یہ ہر گز نہیں۔ارشاد مشائخ کرام المناکحۃ بین اھل السنۃ و اھل الاعتزال لاتجوز [3]کے یہی معنی ہیں یعنی سنیوں اورمعتزلیوں میں مناکحت مباح نہیں،فتاوٰی خلاصہ میں فرمایا:المسألۃ فی مجموع النوازل [4]۔ یہ مسئلہ مجموع النوازل امام فقیہ احمد بن موسی کشنی تلمیذ امام مفتی الجن والانس عارف بالله سیدنا نجم الدین عمر النسفی میں ہےاسی میں فرمایا:کذا اجاب الامام الرستغفنی ٥[5] امام رستغفنی نے ایسا ہی جواب ارشاد فرمایا۔ردالمحتار میں نہایہ امام سغناقی سے ہے انھوں نے اپنے شیخ سے نقل کیاوہ فرماتے تھے :
|
الرستغفنی امام معتمد فی القول والعمل ولواخذنا یوم القٰیمۃ للعمل بروایتہ ناخذہ کما اخذنا [6]۔ |
یعنی رستغفنی امام معتمد ہیں قول وفعل میں،اگر روز قیامت ان کی روایت پر عمل میں ہم سے گرفت ہوئی توہم ان کا دامن پکڑیں گے کہ ہم نے ان کے ارشاد پر عمل کیا۔ |
[1] درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ١/١٨٩
[2] فتح القدیر باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ١/٣٠٤
[3] بحرالرائق فصل فی المحرمات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٣/١٠٢
[4] خلاصۃ الفتاوٰی کتاب النکاح جنس آخرفی الاجازۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ٢/٦
[5] خلاصۃ الفتاوٰی کتاب النکاح جنس آخرفی الاجازۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ٢/٦
[6] ردالمحتار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع