30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عدم حرمت وطی بھی حاصل یعنی اس میں جماع زنا نہ ہوگا وطی حرام نہ کہلائے گا۔
|
وذلك کقولہ عز وجل و احل لکم ما وراء ذلکم مع ان فیھن من یکرہ نکاحھن تحریما کالکتابیۃ کما سیأتی فعلم ان الحل بھذا المعنی لاینافی الاثم فی الاقدام علی فعل النکاح فافھم واحفظ کیلا تزل واﷲ الموفق۔ |
اوریہ ایسا ہی ہے جیسا کہ الله تعالٰی کا ارشاد"تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں محرمات کے سوا"حالانکہ غیر محرمات میں وہ عورتیں بھی شامل ہیں جن سے نکاح مکروہ تحریمہ ہے جیساکہ کتابیہ عورت کے بارے میں آئندہ بیان ہوگا۔تو معلوم ہوا کہ اس معنی میں حلال،نکاح کرنے کے اقدام پر گناہ کے منافی نہیں ہے،اس کو سمجھو اور یاد رکھو تاکہ غلط فہمی نہ ہوا ور توفیق الله تعالٰی سے ہی ہے۔(ت) |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) باللزوم لابالصحۃ کما فعلوا فی الھبۃ [1] اھ مختصرًا وفی مداینات غمز العیون لوجاز ای لزوم تاجیلہ لزم ان یمنع المقرض عن مطالبۃ قبل الاجل ولاجبر علی المتبرع [2] اھ وھو اخص مطلقا من الصحۃ والنفاذ فقد یصح الشیئ وینفذ ولالزوم کتزویج العم من کفو بمھر المثل ولالزوم لموقوف فھو ظاہر ولالفاسد لانہ واجب الفسخ،ومن وجہ من الحل فقد یلزم ولایحل کالبیاعات المکروھۃ،واﷲ تعالٰی اعلم ١٢ منہ غفرلہ(م)
|
لایلزم ہو(یعنی قبضہ کے بغیر رہن جائز تو ہے لازم نہیں)اھ مختصرًا۔ اور غمزالعیون کے مداینات میں ہے لوجاز یعنی مہلت لازم ہوگی تو لازم ہے کہ قرضخواہ کو مدت پوری ہونے سے قبل مطالبہ سے منع کیا جائے جبکہ قرض کی نیکی کرنے والے پر جبر نہیں ہوسکتا،اھ اور جواز بمعنی لزوم،نفاذ اورصحت کے معنی سے خاص مطلق ہے کیونکہ کبھی چیز صحیح اور نافذ ہوتی ہے اور لازم نہیں ہوتی،جیساکہ چچازاد کا مہر مثل کے ساتھ کفو میں لڑکی کا نکاح کرنا صحیح اور نافذ ہے مگر لازم نہیں کیونکہ یہ موقوف ہے اور موقوف چیز لازم نہیں ہوتی،اور یہ ظاہر ہے،اور فاسد بھی لازم نہیں کیونکہ وہ واجب الفسخ ہے اور جواز بمعنی لزوم جواز بمعنی حل سے خاص من وجہ ہے،کیونکہ کبھی چیز لازم ہوتی ہے مگر حلال نہیں ہوتی جیساکہ مکروہ بیع کا حکم ہے،والله تعالٰی اعلم ١٢ منہ غفرلہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع