30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یجوز رفع الحدث بما ذکر[1]الخ(مذکور چیز کے ساتھ حدث کو ختم کرنا جائز ہے الخ۔ت)اسی پر ردالمحتار میں کہا:
|
یجوز ای یصح وان لم یحل فی نحو الماء المغصوب وھو اولی من ارادۃ الحل وان کان الغالب ارادۃ الاول فی العقود و الثانی فی الافعال [2]۔ |
یجوز یعنی یصح،اگرچہ حلال نہ ہو،مثلا غصب شدہ پانی کے ساتھ،اور یہی معنٰی یہاں بہتر ہے بجائیکہ حلال و الا معنی مراد لیا جائے اگرچہ صحیح غالب طورپر عقود میں اور حلال افعال میں استعمال ہوتا ہے۔(ت) |
درمختار کتاب الاشربہ میں ہے:
|
صح بیع غیر الخمر مامر و مفادہ صحۃ بیع الحشیشۃ والا فیون قلت وقد سئل ابن نجیم عن بیع الحشیشۃ ھل یجوز فکتب لایجوز فیحمل علی ان مرادہ بعدم الجواز عدم الحل [3]۔ |
مذکورہ چیزوں میں سے غیر خمر کی بیع صحیح ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ حشیش اور افیون کی بیع صحیح ہے،میں کہتاہوں کہ ابن نجیم سے حشیش کی بیع کے متعلق پوچھاگیا کہ وہ جائز ہے تو انھوں نے جواب میں لکھا لایجوز۔ان کا مقصد عدم جواز سے عدم حل ہے۔(ت) |
بالجملہ جواز کے یہ دونوں اطلاق شائع وذائع ہیں اور ان کے سوا اور اطلاقات عــــہ بھی ہیں جن کی تفصیل سے
|
عــــہ: فقد یطلق بمعنی النفاذ کماقال فی کفاءۃ التنویر امرہ بتزویج امرأۃ فزوجہ امۃ جاز ٤[4] ای نفذ لان الکلام ثمہ فی النفاذ لافی الجواز ٥[5] افادہ السادات الثلثۃ المحشون ح ط ش |
اور کبھی جواز کا اطلاق"نفاذ"پر بھی ہوتا ہے جیساکہ تنویر کے کفاءۃ کے باب میں ہے،اگر کسی نے دوسرے کو کہا کسی عورت سے میرا نکاح کردے تو اس نے لونڈی سے نکاح کردیا تو جائز ہے یعنی نافذ ہے کیونکہ یہاں نفاذ میں بات ہورہی ہے جواز میں بحث نہیں،(باقی اگلے صفحہ پر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع