30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اجماع قطعی تمام ائمہ سلف کا مخالف ہے یہ اگر بطور فقہاء لزوم کفر سے بچ بھی گیا تو خارق اجماع ومتبع غیر سبیل المومنین وگمراہ وبددین ہونے میں کلام نہیں ہوسکتا جس طرح متکلمین کے نزدیك دو قسم پیشین کافر بالیقین کے سوا باقی جمیع اقسام کے وہابیہ،اب اگر عورت سنیہ بالغہ اپنا نکاح کسی ایسے شخص سے کرے اورا س کا ولی پیش از نکاح اس شخص کی بدمذہبی پر آگاہ ہو کہ صراحۃً اس سے نکاح کئے جانے کی رضامندی ظاہر نہ کرے خواہ یوں کہ اسے اس کی بد مذہبی پراطلاع ہی نہ ہو یا نکاح سے پہلے اس قصد کی خبرنہ ہوئی یا بد مذہب جانا اور اس ارادہ پر مطلع بھی ہو ا مگرسکوت کیا صاف رضا کا مظہر نہ ہوا،یا عورت نابالغہ ہو اور ولی مزوج اب وجد کے سوا یا اب وجد ایسے جو اس سے پہلے اپنی ولایت سے کوئی تزوج کسی غیر کفو سے کرچکے ہوں یا وقت تزویج نشے میں ہوں ان سب صورتوں میں یہ بھی نکاح باطل وزنائے خالص ہوگا کہ بد مذہب کسی سنیہ بنت سنی کا کفو نہیں ہوسکتا اور غیر کفو کے ساتھ تزویج میں یہی احکام مذکورہ ہیں،درمختار میں ہے:
|
الکفاءۃ تعتبر فی العرب والعجم دیانۃ ای تقوی فلیس فاسق کفوا لصالحۃ،نھر [1]۔ |
عربی اور عجمی لوگوں کے کفو میں دیانت اور تقوٰی کا اعتبار ہے تو فاسق شخص نیك عورت کا کفو نہ ہوگا،نہر(ت) |
غنیہ میں ہے:
|
المبتدع فاسق من حیث الاعتقاد وھو اشد من الفسق من حیث العمل [2]۔ |
اعتقاد فاسق،عمل فاسق سے زیادہ برا ہے۔(ت) |
تنویر الابصار وشرح علائی میں ہے:
|
لزم النکاح بغیر کفو ان المزوج اباوجدالم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لایصح النکاح اتفاقا وکذا لوسکران بحر،وان المزوج غیرھما لایصح النکاح من غیر کفواصلًا [3]۔ |
اگر باپ یا دادا نے نکاح کیا تو غیر کفومیں بھی یہ نکاح لازم ہوگا بشرطیکہ باپ اور دادا نے اس سے قبل اختیار کو غلط استعمال نہ کیا ہو،اورا گر وہ غلط اختیار استعمال کرچکا ہو تو بالاتفاق یہ نکاح صحیح نہ ہوگا،اوراگر باپ یا دادا نشے میں ہو تب بھی بالاتفاق نکاح صحیح نہ ہوگا(بحر)اور نکاح والد اور دادا نے نہ کیا تو غیر کفو میں نکاح صحیح نہ ہوگا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع