30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اگر ایسے عقائد خود نہیں رکھتا مگر کبرائے وہابیہ یامجتہدین روافض خذلہم الله تعالٰی کہ وہ عقائد رکھتے ہیں انھیں امام وپیشوا یامسلمان ہی مانتا ہے تو بھی یقینا اجماعا خود کافر ہے کہ جس طرح ضروریات دین کا انکار کفر ہے یونہی ان کے منکر کو کافر نہ جاننا بھی کفر ہے،وجیز امام کردری ودرمختار وشفائے امام قاضی عیاض وغیرہا میں ہے:
|
واللفظ للشفاء مختصرًا اجمع العلماء ان من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ١[1]۔ |
شفاء کے الفاظ اختصارًا یہ ہیں،علما کا اجماع ہے کہ جو اس کے کفر وعذاب میں شك کرے وہ کافرہے۔(ت) |
اور اگرا س سے بھی خالی ہے ایسے عقائد والوں کو اگرچہ اس کے پیشوایانِ طائفہ ہوں صاف صاف کافر مانتا ہے(اگرچہ بد مذہبوں سے اس کی توقع بہت ہی ضعیف اور تجربہ اس کے خلاف پر شاہد قوی ہے)تو اب تیسرا درجہ کفریات لزومیہ کا آئے گا کہ ان طوائف ضالہ کے عقائد باطلہ میں بکثرت ہیں جن کا شافی ووافی بیان فقیر کے رسالہ الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات ابی الوھابیۃ(١٣١٢ھ)میں ہے اور بقدر کافی رسالہ سل السیوف الھندیہ علی کفریات باباالنجدیۃ (١٣١٢ھ)میں مذکور۔اور اگرچہ نہ ہو تو تقلید ائمہ کو شرك اور مقلدین کو مشرك کہنا ان حضرات کا مشہور ومعروف عقیدہ ضلالت ہے یونہی معاملات انبیاء واولیاء واموات واحیأ کے متعلق صدہا باتوں میں ادنٰی ادنٰی بات ممنوع یا مکروہ بلکہ مباحات ومستحبات پر جا بجا حکم شرك لگادینا خاص اصل الاصول وہابیت ہے جن سے ان کے دفاتر بھرے پڑے ہیں،کیا یہ امور مخفی ومستور ہیں،کیا ان کی کتابوں زبانوں رسالوں بیانوں میں کچھ کمی کے ساتھ مذکور ہیں،کیا ہر سنی عالم وعامی اس سے آگاہ نہیں کہ وہ اپنے آپ کو موحد اور مسلمانوں کو معاذالله مشرك کہتے ہیں آج سے نہیں شروع سے ان کا خلاصہ اعتقاد یہی ہے کہ جو وہابی نہ ہو سب مشرک،ردالمحتار میں اسی گروہ وہابیہ کے بیان میں ہے:
|
اعتقدوا انھم ھم المسلمون وان من خالف اعتقاد ھم مشرکون ٢[2]۔ |
ان کا اعتقاد یہ ہے کہ وہی مسلمان ہیں او ر جو عقیدہ میں ان کے خلاف ہو وہ مشرك ہے(ت) |
فقیر نے رسالہ النھی الاکید عن الصلاۃ وراء عدی التقلید(١٣٠٥ھ)میں واضح کیا کہ خاص مسئلہ تقلید میں ان کے مذہب پر گیارہ سو برس کے ائمہ دین وعلما ئے کاملین واولیائے عارفین رضی الله تعالٰی عنہم اجمعین معاذالله سب مشرکین قرار پاتے ہیں خصوصًا وہ جماہیر ائمہ کرام وسادات اسلام وعلمائے اعلام جو تقلید شخصی پر سخت شدید تاکید فرماتے اورا س کے خلاف کو منکر وشنیع وباطل وفظیع
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع