30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
بسم الله الرحمن الرحیم،نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
|
الحمد ﷲ الذی لم یرتض الطیبات الاللطیبین الاخیار وترك الخبیثین للخبیثات الاقذا ر والصلٰوۃ والسلام علی من امرنا بالتجنب عن کلاب النار وعلٰی اٰلہ وصحبہ الشاھر ین سیوفھم علٰی رؤوس المبتدعین الفجار۔ |
اس الله تعالٰی کے لیے حمدہے جس نے طیبات کو صرف طیب لوگوں کے لیے منتخب فرمایا اور خبیث خبیث لوگوں کے لیے چھوڑ دیا گیا اور صلوٰۃ وسلام اس پر جس نے ہمیں جہنم کے کتوں سے بچنے کا حکم فرمایا ہے اور آپ کے آل و اصحاب پر جو بدعتی فاجر لوگوں پر اپنی تلواریں لہرا رہے ہیں۔ (ت) |
فی الواقع صورت مستفسرہ میں وہ نکاح یا تو شرعا محض باطل و زنا ہے یا ممنوع وگناہ،سائل سنی صاحب معاملہ سنی وسنیہ۔ برادران سنت ہی سے خطاب ہے اور انھیں کو حکم شرع سے اطلاع دینی مقصود کہ ایك ذرا بنگاہ غور ملاحظہ فرمائیں،اگر دلیل شرعی سے یہ احکام ظاہر ہوجائیں تو سنی بھائیوں سے توقع کہ نہ صرف زبانی قبول بلکہ ہمیشہ اسی پر عمل فرمائیں گے اور اپنی کریمہ عزیزہ بنات واخوات کو ہلاك وابتلا اور دین وناموس میں گرفتاری بلاسے بچائیں گے وبالله التوفیق، وہابی ہو یا رافضی جو بد مذہب عقائد کفریہ رکھتا ہے جیسے ختم نبوت حضور پر نور خاتم النبیین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا انکار یا قرآن عظیم میں نقص ودخل بشری کا اقرار،تو ایسوں سے نکاح با جماع مسلمین بالقطع والیقین باطل محض وزنائے صرف ہے اگرچہ صورت صورت سوال کا عکس ہویعنی سنی مردایسی عورت کونکاح میں لانا چاہے کہ مدعیان اسلام میں جو عقائد کفریہ رکھیں ان کا حکم مثل مرتد ہے کما حققنا فی المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ والمکفرۃ(جیساکہ ہم نے اپنے رسالہ"المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ والمکفرۃ"میں تحقیق کی ہے۔ت)ظہیریہ وہندیہ وحدیقہ ندیہ وغیرہا میں ہے:احکامھم مثل احکام المرتدین [1](ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔ت) اور مرتدمرد خواہ عورت کا نکاح تمام عالم میں کسی عورت ومرد مسلم یا کافر مرتدیااصلی کسی سے نہیں ہوسکتا،خانیہ وہندیہ وغیرہمامیں ہے:
|
واللفظ للاخیرۃ لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد کذافی المبسوط[2]۔ |
دوسری کے الفاظ یہ ہیں مرتد کے لیے کسی عورت، مسلمان، کافرہ یا مرتدہ سے نکاح جائز نہیں،اور یونہی مرتدہ عورت کا کسی بھی شخص سے نکاح جائز نہیں۔جیساکہ مبسوط میں ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع