30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ناقصات العقل والدین بھی ہیں قالہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کمافی الصحیح یہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاا رشاد ہے جیساکہ صحیح حدیث میں ہے۔ت)پھر یہ سب اس صورت میں ہے جہاں شوہر کا کفو عورت نہ ہونا مانع صحت نہ ہو ورنہ نکاح محض باطل ہوگا۔کما فصلناہ فی فتاوٰنا(جیسے ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں مفصل بیان کیا ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ١٩٨: از پٹنہ محلہ لودی کٹرہ مرسلہ سید شاہ محمد کمال صاحب ٢١ ربیع الاول شریف ١٣١٦ھ
حضرت مولانا صاحب قبلہ! اگر کسی مرد نے اپنی رضاعی ساس اور رضاعی سالی کے ساتھ ایک دفعہ یا دودفعہ زنا کیا ہو سہوا یا عمدا تو اس حالت میں بی بی کا نکاح باقی رہے گا یا نہیں؟ اور اگر نکاح نہیں رہا تو پھر اس بی بی سے کسی طرح نکاح یا وہی بی بی اپنے شوہر پر پھر حلال ہوسکتی ہے یا نہیں؟ مگر قبل اس فعل کے اس مرد کوا س مسئلے سے واقفیت نہ تھی۔بینوا تو جروا
الجواب:
سالی اگرچہ خاص نسبتی حقیقی ہو اس سے معاذاﷲ زنا اگرچہ بارہا ہو عورت کو اصلاً حرام نہیں کرتا۔
|
فی الدرالمختار فی الخلاصۃ وطی اخت امرأتہ لاتحرم علیہ امرأتہ [1]۔ |
درمختار میں ہے کہ خلاصہ میں ہے کہ سالی سے وطی بیوی کو حرام نہیں کرتی۔(ت) |
ہاں اگر سالی سے شبہہ اور دھوکے میں وطی ہوجائے تو جب تک سالی اس وطی بالشبہہ کی عدت سے نہ نکلے مرد اپنی منکوحہ کو ہاتھ نہیں لگاسکتا کیلا یلزم الجمع بین المحارم عدۃ(تاکہ عدت میں دو محرم عورتیں ایک کے لیے جمع نہ ہوں۔ت)یہ حرمت اتنے ہی دنوں کے لیے ہوگی بعد اختتام عدت عورت بدستور حلال ہوجائیگی
|
فی رد المحتار قولہ لاتحرم ای لا تثبت حرمۃ المصاھرۃ فالمعنی لاتحرم حرمۃ مؤبدۃ والافتحرم الی انقضاء عدۃ الموطؤۃ لو بشبھۃ قال فی البحر لو وطی اخت امرأۃ بشبھۃ تحرم علیہ امرأتہ مالم تنقض عدۃ ذات الشبھۃ [2]۔ |
ردالمحتار میں ہے اس کے قول ''حرام نہیں'' کا مطلب مصاہرت کی حرمت ابدی نہیں ہے ورنہ سالی کے ساتھ شبہہ میں وطی سے اس کی بیوی عدت پوری ہونے تک حرام رہتی ہے۔بحر میں کہاہے اگر سالی سے شبہہ کی بناپر وطی ہوجائے تو بیوی حرام رہتی ہے جب تک شبہہ والی وطی کی عدت پوری نہ گزرجائے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع