30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سند لکھ کر مہر فرمادیں تو مجھے مہر کرنے میں عذر نہیں لہذا نقل فتوی مرسل خدمت ہے۔یہ فتوی جناب کا تحریر فرمایا ہوا ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو اس حکم کی سند کیا ہے؟ بینوا تو جروا۔
الجواب:
فی الواقع یہ فتوٰی فقیر ہی کا لکھا ہوا ہے اور دربارہ مرتد ومرتدہ حکم شرعی یہی ہے کہ ان کا نکاح نہ کسی مسلم و مسلمہ سے ہوسکتا ہے نہ کافر وکافرہ سے۔نہ مرتد ومرتدہ سے ان کے ہم مذہب خواہ مخالف مذہب سے،ٖغرض تمام جہاں میں کہیں نہیں ہوسکتا۔مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی پھرفتاوٰی ہندیہ میں ہے:
|
لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدہ ولامسلمۃ لاکافرۃ اصلیۃ وکذلک لایجوز نکاح المر تدۃ مع احد [1]۔ |
مرتد شخص کو مرتدہ،مسلمان ہو یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں،یوں ہی مرتدہ عورت کسی مسلمان مرد کے لیے حلال نہیں۔(ت) |
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
|
لایجوز نکاح المرتدۃ لاحد والمجوسیۃ لاتحل للمسلم وتحل لکل کافر الالمرتد [2]۔ |
مرتدہ کا نکاح کسی کے ساتھ جائز نہیں۔مجوسیہ مسلمان کو حلال نہیں وہ ہر اصلی کافر کے لیے حلال ہے اور مرتد کے لیے حلال نہیں۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
المبیض اذاتزوج مبیضۃ بشھود و ولی ان کانا یظھران الکفر اواحدھما کانا بمنزلۃ المرتدین لم یصح نکاحھما ٣[3] مختصرا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
منافق نے اگر منافقہ عورت سے اس کے ولی اورگواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا اور اپنے کفر کو ان دونوں نے یا ان میں سے ایک نے ظاہر کردیا تو ان کا حکم بھی مرتدوں والا ہوگا اور ان کا نکاح صحیح نہ ہوگا اھ مختصرا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ١٩٧: از گلگت چھاؤنی جوئنال مرسلہ سید محمد یوسف علی صاحب ٧ شعبان ١٣١٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیعہ وغیرہ بد مذہبوں کے ساتھ شادی کرنا کیسا ہے؟ بینوا تو جروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع