30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیز مصنف عمران بن حصین رضی اﷲ تعالٰی عنہماسے ہے:
|
فی الذی یزنی بام امرأتہ قال حرمتا علیہ [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
یعنی اپنی ساس سے زنا کرنے والے کی نسبت فرمایا کہ اس پر ساس اور عورت دونوں حرام ہوگئیں۔ |
اس حرمت کے پیدا ہونے سے مرد وزن کو جدا ہوجانااورا س نکاح فاسد شدہ کا فسخ کردینا فرض ہوجاتا ہے مگرخود بخود نکاح زائل نہیں ہوجاتا،یہاں تک کہ شوہر جب تک متارکہ نہ کرے اور بعد متارکہ عدت نہ گزرے عورت کو روا نہیں کہ دوسرے سے نکاح کرے،اور قبل متارکہ شوہر کا اس سے وطی کرنا حرام ہوتا ہے مگر زنا نہیں کہ نکاح باقی ہے،ولہٰذا اس وطی سے جو اولاد پیدا ہو صحیح النسب ہے ایسے نکاح کے ازالہ کو جو الفاظ کہے جائیں طلاق نہیں بلکہ متارکہ کہلاتے ہیں اگرچہ بلفط طلاق ہوں یہاں تک کہ ان سے عدد طلاق کم نہیں ہوتا،درمختار میں ہے:
|
بحرمۃ المصاھرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لھا التزوج بآخر الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ والوطئ بھا لایکون زنا [2]۔ |
حرمت مصاہرۃ سے نکاح ختم نہیں ہوتا لہذا دوسرے شخص سے نکاح نہیں کرسکتی جب تک خاوند متارکہ نہ کرے اور عدت نہ گزر جائے،اس دوران اگر خاوند نے وطی کی تو وہ زنا نہیں ہوگا۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قال فی الذخیرۃ ذکر محمد فی نکاح الاصل ان النکاح لایرفع بحرمۃ المصاہرۃ والرضاع بل یفسد حتی لووطئھا الزوج قبل التفریق لایجب علیہ الحد اشتبہ علیہ اولم یشتبہ [3]۔ |
ذخیرہ میں ہے امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے اصل یعنی مبسوط کی بحث نکاح میں ذکر فرمایا کہ حرمت مصاہرت اور حرمت رضاعت کی بنا پر نکاح ختم نہیں ہوتا بلکہ فاسد ہوتاہے لہذا اگر خاوند نے تفریق سے قبل وطی کرلی تو اس پر زنا کی حد نہیں ہوگی۔اس کو کوئی اشتباہ ہویا نہ ہو۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
قال فی الحاوی والوطئی فیھا لایکون زنا |
حاوی میں ہے کہ اس مدت میں وطی کو زنا نہ کہا جائے گا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع