30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
غفل عن حفظ الاخبار وجودۃ الحفظ للآثار فلما فحش خطؤہ استحق الترک[1]۔ |
احادیث سے غافل ہوئے حدیثیں خوب یاد نہ رہیں جب خطا بکثرت واقع ہوئی ترک کے مستحق ہوگئے۔ |
امام احمد ویحیٰی سے ان کی توثیق کے اقوال بھی ہیں مگر قول فیصل یہ قرارپایا کہ حافظ الشان نے تقریب میں فرمایا: ضعیف عابد [2](کمزور عابد ہے۔ت)
ثالثا اقول اس حدیث سے جواب کو وہی آیہ کریمہ ومسئلہ زن مظاہرہ کافی ظہار میں جماع حرام تھا پھر اس نے مظاہرہ کی دختر حلال کو کیونکر حرام کردیا۔
رابعاً یہ حدیث جس طرح ابن ماجہ نے روایت کی کہ اگرکچھ قابل ذکر ہے تو یہی۔اگر اس کے ضعف سند سے قطع نظر بھی کی جائے تو اس میں کوئی قصہ سوال اس حدیث متروک وساقط کی طرح نہیں صرف اتنا بیان ہے کہ حرام حلال کو حرام نہیں کرتا،یہ اپنے ظاہر پر تویقینا صحیح نہیں،کیا اگر قلیل پانی یا گلاب میں شراب یا پیشاب ڈال دیں تو اسے حرام نہ کردیں گے!
اقول کیا کونی اگر زنا سے جنب ہو تو اسے نمازوقرأت ودخول مسجد وطواف کعبہ کہ حلال تھے حرام نہ ہوجائیں گے! کیا اگر کوئی ظالم کسی مظلوم کی بکری کا گلا گھونٹ کر مار ڈالے تو اس کا یہ فعل کہ اگر اپنے مال کے ساتھ ہوتا جب بھی بوجہ اضاعت مال حرام تھا اور مال غیر کے ساتھ ظلما حرام د رحرام اس حلال جانور کو حرام نہ کردے گا! کیا اگر کوئی شخص اپنی عورت کو ایک ہفتہ میں تین طلاقیں دے خصوصاً ایام حیض میں تو اس فعل حرام درحرام سے وہ زن حلال اس پر حرام نہ ہوجائے گی! صدہا صورتیں ہیں جن میں حرام حلال کو حرام کردیتا ہے،تویہ اطلاق کیونکرمراد ہوسکتا ہے،لاجرم تاویل سے چارہ نہیں کہ حرام من حیث ہو حرام،حلال کو حرام نہیں کرتا۔
اقول یعنی بول وشراب نے جو آب وگلاب کو حرام کیا نہ بوجہ اپنی حرمت کے بلکہ اس جہت سے کہ یہ نجس تھے اس سے مل کر اسے بھی نجس کر دیا،اب اس کی نجاست باعث حرمت ہوئی اور اگر کوئی شئی طاہر حرام کسی حلال میں ایسی مل جائے کہ تمیز ناممکن ہو تو ہم تسلیم نہیں کرتے کہ وہ حلال خود حرام ہوگیا بلکہ حلال اپنی حلت پر باقی ہے اور مخلوط کا تناول اس لیے ناجائز کہ بوجہ اختلاط اس کا تناول تناول حرام سے خالی نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اگر جدا ہوسکے اور جدا کرلیں تو حلال بدستور اپنی حلت پر ہو کما لایخفی(جیساکہ مخفی نہیں۔ت)یونہی زنا سے نماز وغیرہ کو اس حیثیت سے حرام نہ کیا کہ وہ زنا ہے کہ خصوصیت زنا کو اس میں کیا دخل،بلکہ اس حیثیت سے کہ وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع