30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں کرتامگر یہ حدیث کس طرح مخالف کی دلیل ہوسکے جبکہ سخت ضعیف وساقط وناقابل احتجاج ہے۔بیہقی بآنکہ انتصار شافعیت میں اہتمام شدید رکھتے ہیں اسے حدیث ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کرکے تضعیف کردی کما فی التیسیر شرح الجامع الصغیر [1](جیسا کہ جامع صغیر کی شرح تیسیر میں ہے۔ت)
اقول: دلیل ضعف کو یہی کافی کہ ام المومنین خود قائل حرمت کما تقدم(جیسا کہ گزرا۔ت)اگر اس با ب میں خود ارشاد اقدس حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سنے ہوتے تو خلاف کے کیا معنی تھے لاجرم امام احمد نے فرمایا نہ وہ ارشاد اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے نہ اثرام المومنین،بلکہ عراق کے کسی قاضی کا قول ہے کما فی الفتح[2] (جیسا کہ فتح میں ہے۔ت)روایت حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما میں عثمٰن بن عبدالرحمن وقاصی ہے جو سید نا امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے قاتل عمرو بن سعد کا پوتا ہے۔امام بخاری نے فرمایا ترکوہ [3]محدثین نے اسے متروک کردیا۔امام ابو داؤد نے فرمایا لیس بشیئ [4]کوئی چیز نہیں۔امام علی بن مدینی نے سخت ضعیف[5]فرمایا۔نسائی ودارقطنی نے کہا متروک [6]ہے۔حتی کہ امام یحیٰی بن معین نے فرمایا یکذب[7]جھوٹ بولتا ہے۔
اقول: یہی عثمٰن حدیث ام المومنین صدیقہ کا بھی راوی ہے۔روایت ابن حبان کتاب الضعفاء میں یو ں ہے:
|
حدثنا الحسن بن سفٰین نا اسحٰق بن بھلول نا عبداﷲ بن نافع نا المغیرہ بن اسمٰعیل بن ایوب بن سلمۃ عن عثمان بن عبدالرحمٰن عن |
ہمیں حدیث بیان کی حسن بن سفیان نے انھوں نے اسحاق بن بہلول سے،انھوں نے عبداﷲ بن نافع سے،انھوں نے مغیرہ بن اسمٰعیل بن ایوب بن سلمہ سے،انھوں نے عثمان بن عبدالرحمان سے،انھوں نے امام ابن شہاب زھری سے، انھوں نے |
[1] التیسیرشرح الجامع الصغیر حرف لا مکتبہ امام شافعی ریاض سعودیہ ٢/٥٠٤
[2] فتح القدیر فصل فی بیان المحرمات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٣/١٢٨
[3] کتاب الضعفاء الصغیر مع التاریخ الصغیر باب العین مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص٢٧٠،میزان الاعتدال حرف العین ترجمہ٥٥٣١ دارالمعرفۃ بیروت ٣/٤٣
[4] فتح القدیر فصل فی بیان المحرمات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٣/١٢٨
[5] میزا ن الاعتدال حرف العین ترجمہ ٥٥٣١ دارالمعرفہ بیروت ٣/٤٣
[6] میزا ن الاعتدال حرف العین ترجمہ ٥٥٣١ دارالمعرفہ بیروت ٣/٤٣
[7] میزا ن الاعتدال حرف العین ترجمہ ٥٥٣١ دارالمعرفہ بیروت ٣/٤٣
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع